ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 258

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۸ جلد دہم نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (يونس : ۷ (۴) اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی لفظ توفی ہی آیا ہے تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ (يوسف : ۱۰۲) اب جائے غور ہے کہ اوروں کے واسطے تو یہی لفظ موت پر دلالت کرے مگر حضرت عیسی کے حق میں اگر آجاوے تو اس میں کچھ ایسی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کے معنے بجائے موت کے جسم عنصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہو جاتے ہیں ۔ سب سے پہلا اجماع جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوا وہ وفات عیسی کے مسئلہ پر ہے۔ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب جو ایک بڑے مخلص آدمی ہیں ان کو ایک بشپ پادری سے زندہ رسول کے مسئلہ پر مباحثہ کرنے کا موقع ملا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ لاہور میں ایک لارڈ بشپ نے ایک بڑے بھاری مجمع میں یہ بیان کیا کہ مسلمانوں کا رسول ( نعوذ باللہ ) زندہ نبی کہلانے کا مستحق نہیں ہے زندہ نبی صرف حضرت عیسی ہی ہیں۔ مسلمانوں کے رسول مدینے میں مدفون اور مسیح زندہ آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔ سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ہی سوچو اور فیصلہ کرو کہ افضل ان میں سے کون ہے؟ مسلمان بیچاروں کے پاس اس سوال کا کیا جواب تھا؟ اتفاق سے مفتی محمد صادق صاحب اس جلسہ میں موجود تھے ۔ انہوں نے یہ حال دیکھ کر غیرت اسلامی کے تقاضا اور جوش سے اٹھ کر کہا کہ میں آپ کے اس سوال کا جواب دیتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح کی وفات کو بیان کر کے کہا کہ قرآن شریف میں حیات مسیح کا کہیں بھی ذکر نہیں ۔ قرآن شریف ان کو بار بار انبیاء کی طرح وفات یافتہ قرار دے چکا ہے۔ یہ جواب سن کر وہ بشپ چونک پڑا اور کوئی جواب اس سے بن نہ آیا۔ صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ معلوم ہوتا ہے تم مرزائی ہو۔ ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے ۔ ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں۔ اس واقعہ نے ہمارے دشمنوں کے دلوں پر بھی اثر کیا اور اندر ہی اندر وہ ملزم ہو گئے اور ان کو یقین ہو گیا کہ آج اگر کوئی عیسائیوں پر غالب آ سکتا ہے تو وہ یہی فرقہ ہے اور لوگوں نے متفق اللفظ یہ کہا کہ اگرچہ ہیں تو کا فرمگر آج اسلام کی عزت انہی لوگوں نے رکھ لی ہے۔