ملفوظات (جلد 10) — Page 256
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۶ جلد دہم اور ایک پتھر ہمارے لڑکے کے بھی لگا۔ بعض دوستوں کو جوتیاں بھی لگیں ۔ لَا يُلْدَاغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ ۔ پس آزمودہ نسخہ کو ہم اب دوبارہ کیسے آزما سکتے ہیں؟ - ہم پھر دوسرا بڑا نقص یہ ہے کہ زبانی گفتگو میں نقل کرنے والے جو ان کا دل چاہے کر لیں اور چاہیں تو رائی کا پہاڑ بنا لیں۔ قلم ان کے ہاتھ میں ہے۔ پھر بعض شریر النفس لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دو دو گھنٹے تک ان کو سمجھایا جاتا ہے۔ مگر چونکہ ان زبانی تقریروں میں انسان کو سوچنے کا بہت کم موقع ملتا ہے اور زبانی تقریریں صرف آنی اور فوری ہوتی ہیں ان کا اثر دیر پا نہیں ہوتا اس واسطے مجبوراً اس راہ سے اجتناب کرنا پڑا اور سلسلہ تحریر میں میں نے اتمام حجت کے واسطے مفصل طور سے ستر پچھتر کتابیں لکھی ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک جداگانہ طور سے ایسی جامع ہے کہ اگر کوئی طالب حق اور طالب تحقیق ان کا غور سے مطالعہ کرے تو ممکن نہیں کہ اس کو حق و باطل میں فیصلہ کرنے کا ذخیرہ بہم نہ پہنچ جاوے۔ ہم نے اپنی عمر میں ایک بھاری ذخیرہ معلومات کا جمع کر دیا ہے۔ اور جہاں تک ممکن تھا ان کی اشاعت بھی کی گئی ہے اور دوست اور دشمنوں نے ان کو پڑھا بھی ہے۔ زبانی تقریر کا عرصہ کم ہوتا ہے۔ انسان کو اس میں تدبر کرنے کا موقع نہیں ملتا ۔ بلکہ بعض جو شیلی طبیعت کے آدمیوں کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا کیونکہ وہ تو اپنے خیالات کے خلاف سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں ۔ اور ان کے منہ میں جھاگ آنے لگ جاتا ہے ۔ برخلاف اس کے کتاب کو انسان ایک الگ حجرے میں لے کر بیٹھ جاوے تو تدبر کا بھی موقع ملتا ہے اور چونکہ اس وقت مد مقابل کوئی نہیں ہوتا اس واسطے خالی الذہن ہو کر سوچنے کا اچھا موقع ملتا ہے۔ مگر بایں ہمہ ہم نے دوسرے پہلو کو بھی ہاتھ سے نہیں دیا اور اس غرض کے واسطے مختلف شہروں میں گئے۔ تبلیغ کی ہے۔ بعض مقامات میں تو ہمارا اینٹ پتھروں سے بھی مقابلہ کیا گیا ہے ۔ ابھی آپ کے نزدیک تبلیغ نہیں کی گئی ۔ زندگی میں کوئی کام دنیوی نہیں رکھا ۔ ہم قادیان ہم اپنا کام ختم کر چکے ہیں میں ہوں یا لاہور میں جہاں ہوں ہمارے انفاس اللہ ہی کی راہ