ملفوظات (جلد 10) — Page 255
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۵ جلد دہم جھوٹی گواہیاں دینا بھی مسلمانوں بلکہ خصوصاً نام کے مولویوں کا پیشہ ہی ہو گیا ہے۔ پھر بائیں ہمہ ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں ۔ ہماری یہ خواہش ہے اور ہمیں اس بات کا اشتیاق ہے کہ صاحب اثر مسلمانوں کی ایک جماعت معاملہ کی تحقیقات تو کرے کہ آیا ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ سچے ہیں؟ کیا یہ سچ ہے کہ ہم نے قرآن اور رسول کو چھوڑ دیا ہے؟ اور نعوذ باللہ کوئی نیا دین بنالیا ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ ہم انبیاء کو اس معام گالیاں دیتے ہیں؟ شاہزادہ صاحب موصوف نے سوال کیا کہ آپ بجائے تحریری اور زبانی تبلیغ کا موازنہ اس کے کہ قادیان میں ہی ہمیشہ یاد رکھیں دو اس کہ میں قیام دورہ کر کے پنجاب اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں اگر پھر کر وعظ و تبلیغ کا کام کریں تو زیادہ مفید ہوگا۔ فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ تبلیغ کے وسائل ہر زمانہ میں مناسب وقت اور مناسب حال الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس زمانہ کی آزادی اگر چہ عمدہ چیز ہے مگر ساتھ ہی اس میں بعض نقائص بھی ہیں ۔ آپ نے جو طریق فرمایا ہے میں نے اس طریق تبلیغ کو بھی استعمال کیا ہے اور بعض مقامات میں اس غرض کے لئے سفر بھی کئے ہیں ۔ مگر اس میں تجربہ سے دیکھا ہے کہ اصل مقصد کما حقہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ دوران تقریر میں بعض لوگ بول اٹھتے ہیں ۔ دو چار گالیاں بھی سنا دیتے ہیں اور شور و غوغا کر کے بد نظمی کا باعث ہو جاتے ہیں اس لاہور میں ہی ایک دفعہ حالانکہ خود ہمارا اپنا مکان تھا اور پولیس وغیرہ کا بھی انتظام تھا۔ مگر ایک شخص دوران تقریر میں عین بھری مجلس میں کھڑا ہوا اور منہ پر کھڑے ہو کر گالیاں سنائیں ۔ میاں محمد خاں صاحب مرحوم جو کہ ہمارے بڑے مخلص اور محبت کرنے والے تھے ان کو جوش آگیا مگر ہم نے ان کو بند کر دیا کہ ہمارے اخلاق کے یہ امر بر خلاف ہے کہ اسی قسم کا پہلو اختیار کیا جاوے۔ غرض لاہور میں، امرتسر میں، دہلی میں، سیالکوٹ وغیرہ میں ہم نے اچھی طرح سے آزما لیا ہے کہ یہ نسخہ فتنہ سے خالی نہیں اور اس میں شر کا اندیشہ زیادہ ہے چنانچہ امرتسر میں ہمیں پتھر مارے گئے