ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 218

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۸ جلد دہم اور خوف کھاتا تھا مگر جب وہ قریب آیا تو آپ نے نہایت نرمی اور لطف سے دریافت فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو؟ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں ۔ خدا تعالی کی حکمتوں کوکوئی نہیں پاسکتا فرمایا ۔ جب بات حد سے بڑھ جاتی ہےتو فیصلہ کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ہمیں چھبیس سال ہوئے تبلیغ کرتے اور جہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کر چکے ہیں اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ دکھلاوے اور فیصلہ کرے گا۔ پس جس نے یہ شرط کر لی ہو کہ میں نے تو اس شخص کو ماننا ہی نہیں خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اور اس کا غبار حد سے بڑھ گیا ہو تو اس کا حال خدا ہی کے سپر د ہے اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ خدا کی حکمتوں کو کوئی نہیں پاسکتا۔ یہ خدائی تصرفات ہیں جس کو چاہے اپنی طرف کھینچ لے اور جس کو چاہے رڈ کر دے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود دنیا کے واسطے رحمت تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : (۱۰۸) مگر کیا ابو جہل کے واسطے بھی آپ رحمت ہوئے؟ وہ لوگ تو خیال کرتے ہوں گے کہ ابھی یہ ایک یتیم بچہ تھا۔ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ کمزور اور غریب تھا۔ نکاح تک بھی تو میسر نہ آیا ۔ غرض کچھ ایسے ہی خیالات ان کے دل میں آتے ہوں گے مگر ان بد قسمتوں کو کیا خبر تھی کہ ایک دن یہی یتیم دنیا کا شہنشاہ اور نجات دہندہ ہوگا ۔ لے یکم مئی ۱۹۰۸ء جمعہ اجنبی خدا کی طرف آنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا نماز جم سے پہلے جبکہ چند منی آپ کی ملاقات کے واسطے آئے ۔ فرمایا۔ ہمیں تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آجکل اسلام کی خوش قسمتی نہیں بلکہ بدقسمتی کے دن ہیں ۳ اگست ۱۹۰۸ صفحه ۳ الحکم جلد ۱۲ نم ۱۲ نمبر ۴۹ ، ۵۰ مورخه ۲۶، ۳۰ اگست ۱۹۰۸ء ۰۵۰،۴۹