ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 216

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۶ جلد دہم گالیاں دینا تو ان لوگوں کا ایک فرض ہو چکا ہے سو دے لیں ۔ مگر اب ہمیں شوق ہے تو صرف یہی کہ آیا تقویٰ اور خشیت الہی کو مد نظر رکھ کر اس فرقہ کے منہ سے کوئی علمی بات بھی نکلتی ہے؟ مگر افسوس یہ بات کبھی پوری نہ ہوئی۔ جو حق پر ہوتا ہے اس کے ساتھ خدا کی تائید اور نصرت ، اس کے کلام میں قوت اور شوکت اور اس کے انفاس میں ایک جذب ہوتا ہے۔ فرمایا۔ حیات کا مسئلہ ان کو مبارک نہ ہوا کیونکہ ان میں سے بہت سے حیات حیات ہی پکارتے بصد حسرت و ارمان گزر گئے مگر حیات مسیح نے ان کی کوئی مدد نہ کی ۔ اتنے میں گھنٹی بجی۔ وسل ہوا۔ اور گاڑی لاہور کو چل دی۔ ۳۰ را پریل ۱۹۰۸ء (بمقام لاہور ۔ احد یہ بلڈنگز) فرمایا ۔ صدق وصفا ، تقوی طہارت، یہ اسلام کے برکات موجودہ مسلمانوں کی حالت تھے جو کہ مسلمانوں میں لازما پائے جاتے ہیں مگر اب تو - ان صفات سے لوگ بکلی محروم ہو گئے ہیں ۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم ۔ مسجد میں ویران پڑی ہیں۔ نمازی کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجد میں نہ ملتی تھیں ۔ جتنے پڑھتے ہیں ان میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار برکات اور ثمرات سے محروم ہیں عیسائی تو حضرت مسیح کو پھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے مگر اکثر مسلمان حضرت امام حسین کی شہادت میں نجات پاچکے ہیں۔ فرمایا۔ جسمانی شہوات کے دلدل میں سے نکلنا ہی شہوات کی آگ بجھانے کا ذریعہ مشکل ہوتا ہے اگر اللہ تعالی نے کسی انسان کے واسطے مقدر کیا ہوتا ہے کہ اسے سعادت میں سے کوئی حصہ عطا فرماوے تو اس کے واسطے کوئی ایسا عجوبہ اور خارقِ عادت نشان یا اپنی کوئی دل کو پکڑ لینے والی تجلی دکھا دیتا ہے بجز اس کے دلوں کی گندگی دھوئی الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۶ مورخه ۶ را گست ۱۹۰۸ صفحه ۴، ۵