ملفوظات (جلد 10) — Page 191
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۱ جلد دہم تو ایسی ضرورتیں تھیں اور نہ ہی ایسے ذرائع و اسباب مہیا تھے۔ دیکھو! اگر انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی بڑے بڑے زبر دست نشانات اور کھلے کھلے معجزات دکھا دیئے جایا کریں تو پھر ایمان ایمان ہی نہیں رہ سکتا بلکہ وہ تو عرفان ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس میں انسان کو ثواب اور مدارج کے حصول کی کوئی وجہ ہی نہیں رہتی ۔ اگر ابتدا ہی میں کھلی کھلی کامیابیاں اور فتوحات ہو جا تیں تو سب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہونے والے بدمعاش اور فاسق فاجر لوگ ہی ہوتے اور صادق اور کاذب ، مخلص اور منافق میں تمیز کی کوئی راہ باقی رہ نہ جاتی اور نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اٹھ جاتی ۔ دیکھو ! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فر است صحیحہ اور نور ایمان سے پہچان لیا تھا کیا انہوں نے کوئی معجزہ مانگا تھا ؟ ہرگز نہیں بلکہ صرف آنحضرت کی زندگی کے ابتدائی واقعات ہی سے آپ کے صدق دعوئی کو بڑی قوت اور استقلال سے قبول کر لیا۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا نبی کے بعد خلیفہ بنانا خدا تعالیٰ کا کام ہے رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔ جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔ آنحضرت نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقررفرماوے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب ے بدر سے ۔ اگر تمام نشانات یکساں روشن اور بین اور حسب خواہش ہوتے تو ابو جہل بھی ایمان لے ہی آتا مگر وہ خبیث النفس تھا۔ خدا نے نہ چاہا کہ ایسی پاک جماعت میں شامل ہو۔“ ( بدر جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۲۳ را پریل ۱۹۰۸ صفحه ۴)