ملفوظات (جلد 10) — Page 152
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۲ جلد دہم اللہ تعالیٰ نے تو حضرت عیسی کا قصہ ہی تمام کر دیا ہے جہاں یہ سوال و جواب وفات مسیح علیہ السلام ہے کہ فَلَنَا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدة: ۱۱۸) - ے ان کا اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک تو حضرت عیسٰی کا وفات پا جانا اور دوسرے الا دوبارہ دنیا میں نہ آنا۔ کیونکہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن کو ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال حضرت عیسی سے کہ کیا تم نے عیسائیوں کو یہ شرک کی تعلیم دی تھی اور حضرت عیسی کا یہ جواب دینا کہ یا الہی ! یہ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں ۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ میرے میرے بعد انہوں نے کیسے عقا ئد اختیار کر لیے۔ میں نے تو ان کو صرف توحید کی تعلیم دی تھی۔ اس سوال و جواب سے صاف صریح اور واضح طور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گے ورنہ اگر وہ دوبارہ کبھی دنیا میں آئے ہوتے اور ان کی گندی تعلیم اور مشرکانہ عقائد کی اصلاح کی ہوتی ۔ صلیب توڑی ہوتی اور خنزیر قتل کئے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایسے صریح جھوٹ سے سرزنش نہ کرتا؟ اور وہ ایسی جرات اور دلیری سے حضور الہی کے سامنے قیامت کے دن ایسا جھوٹ بولتے ؟ ہرگز نہیں۔ پس واقعی اور حق بات یہی ہے کہ حضرت عیسی وفات پا چکے اور وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا قول ہوا اس کی تصدیق آنحضرت نے فعل سے کر دی اور آپ نے معراج کی رات حضرت عیسی کو حضرت یحییٰ کے پاس بیٹھے دیکھا غور کا مقام ہے کہ زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیا کام؟ حیات اور وفات تو دو ضدیں ہیں جس طرح نور اور ظلمت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح مردے اور زندہ لوگوں کا بھی آپس میں کوئی تعلق نہیں کہ ایک جگہ رہیں بلکہ حضرت عیسی کے واسطے تو کوئی الگ کوٹھڑی درکار تھی ۔ اس کے بعد اور زیادہ تشریح بخاری اور مسلم مسیح موعود کی آمد اور پیشگوئیوں کا ظہور نے کر دی ہے جنہوں نے آخری زمانہ کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نئی سواری کا ذکر کر کے یہ کہا کہ لَيُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا اور قرآن شریف نے اسی مضمون کو عبارت ذیل میں بیان فرما کر اور بھی صراحت کر دی کہ