ملفوظات (جلد 10) — Page 151
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۱ جلد دہم چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اصول کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ (ص: ۵۱) یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدا ان کے لیے آسمانی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کا رفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جو لوگ بدکار اور خدا سے دور ہوتے ہیں اور ان کو خدا سے کوئی تعلق صدق و اخلاص نہیں ہوتا اُن کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرما یالا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف: ۴۱) غرض یہود کا اعتراض تو یہی تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی چونکہ سولی چڑھائے گئے ہیں اس واسطے وہ ملعون ہیں اور صاف بات ہے کہ ملعون کا رفع روحانی نہیں ہو سکتا۔ اسی کے جواب میں قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) اچھا ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر یہودیوں کا یہی اعتراض تھا کہ عیسی کا رفع جسمانی نہیں ہوا تو پھر قرآن شریف جو کہ ان دونوں قوموں میں حکم ہو کر آیا ہے اس نے یہود کے اس اعتراض کا کیا جواب دیا ہے؟ کیا وجہ کہ قرآن شریف نے یہود کے اصل اعتراض کا تو کہیں جواب نہ دیا اور رفع روحانی پر اتناز ور دیا اور رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ فرمایا رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ کیوں نہ فرمایا ہے؟ عرش الہی ایک وراء الور امخلوق ہے جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے۔ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ عرش الہی آسمان سے قریب اور زمین سے دُور ہے۔ لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے عرش مقام تنزیہ ہے اور اسی لیے خدا ہر جگہ حاضر ناظر ہے جیسا کہ فرماتا ہے هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمُ (الحدید: ۵) اور مَا يَكُونُ مِنْ نَّجْوَى ثَلَثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُم (المجادلة : ۸) اور فرماتا ہے کہ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق : ١٧) غرض اصل جھگڑا تو صرف ان کے رفع روحانی اور مقرب بارگاہِ سلطانی ہونے کے متعلق تھا سو اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ہی کر دیا یہ فرما کر بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اب کوئی بتائے کہ بھلا اس سے ان کا آسمان پر چڑھ جانا کیسے ثابت ہوتا ہے۔ کیا خدا آسمان پر ہے اور زمین پر نہیں؟