مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 539 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 539

مکتوبات احمد ۵۳۹ جلد پنجم ۱۳۱۱ ھ و ۱۳۱۲ ہجریہ میں جمع فرمایا ۔ الفاظ حدیث یہ ہیں جو دارقطنی وغیرہ کتب معتبرہ حدیث میں مذکور ہے۔ ان لمهدينا أيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض تنخسف القمر في اول ليلة من رمضان يعنى فى اول ليلة من الليالى التى يقع فيها الخسوف وتنكسف الشمس فى النصف منه يعنى فى نصف الايام التى تنكسف الشمس فيها انتهى۔ بعض جہلا اس حدیث پر چند اعتراض کرتے ہیں حالانکہ وہ سب اعتراض بالکل باطل اور لغو و فاسد ہیں ۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ حدیث من حیث الاسناد ضعیف ہے ۔ یہ معترض اصول حدیث کے قاعدہ کو ہی بالکل نہیں سمجھتا ۔ جو ایسا واہی اعتراض کرتا ہے کیونکہ سلمنا کہ اسناد ضعیف ہے ۔ مگر قاعدہ اصول ہے کہ اگر کوئی حدیث من حیث الاسناد ضعیف ہو جو ایک اصطلاح حدیث کی ہے تو ضعف اسناد سے لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث بھی غلط ہو جاوے مثلاً اگر واقعات اس کی تصحیح کر دیویں۔ ردیویں ۔ تو پھر وہ حدیث تو اس ح س حدیث سے سے بھی اصح اور اقوئی ہو جاوے گی جو من حيث الاسناد تو صحیح ہوں ۔ لیکن واقعات اس کے مصدق نہ ہوئے ہوں ۔اس لئے یہ حدیث تو نہایت درجہ پر صحیح اور اقوئی ہے کیونکہ اس کی صحت اور قوت پر زمین و آسمان نے منجانب اللہ شہادت دے دی ہے ۔ فَصَارَ الْإِعْتِرَاضُ هَبَاءً مَّنْشُورًا - اور بعض کم فہم یہ اعتراض کرتے ہیں کہ زمانہ سابقہ میں ہی چند بار ایسا اجتماع کسوف اور خسوف کا واقع ہوا ہے ۔ یہ جاہل معترض نہیں سمجھتا کہ ضمير لم تكونا ۔ جو بمعنی دونشانوں کے ہے اور ظاہر ہے کہ کسی شخص نے زمانہ سابقہ میں کسوف اور خسوف کا اپنے دعوی کی تصدیق کے لئے نشان ہونے کا دعویٰ ہرگز ہرگز نہیں کیا بخلاف مانحن فیه کے کہ حضرت مسیح موعود نے ہزار ہا ر سائل اور کتب اور اشتہارات میں ان کے نشان ہونے کا دعوی تمام دنیا میں شائع کیا ہے۔ پس مخبر صادق کی پیشگوئی تو یہ تھی کہ یہ اجتماع کسوف و خسوف ہمارے سچے مہدی کے لئے ڈونشان ہوویں گے۔ سو یہ پیشگوئی واقع ہوگئی ۔ اب پھر یہ کہنا کہ ایسے واقعات تو ہمیشہ ہی ہوا کرتے ہیں کیسی حماقت ہے۔ جس سے تمام نشانہائے مندرجہ قرآن مجید کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ جملہ انبیاء کے لئے جو نشانات من جانب اللہ دیئے گئے ہیں وہ دنیا میں واقع تو ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ پس معترض پر ان سب کی