مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 459
مکتوبات احمد لدهم جلد پنجم کا وہی مجدد ہو گا خواہ خلیفہ اول صدیق اکبر ہوں یا مسیح موعود خاتم الخلفاء و مہدی مسعود ہو ہاں یہ سب مجددین سب کے سب یکساں اور متساوی فی الدرجہ نہیں ہیں بلکہ بحکم تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ! کے امت محمدیہ میں بھی یہ حکم فضیلت کا جاری و نافذ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اکثر جگہ پر بعد ذکر انبیاء اور مرسلین کے جا بجا فرما تا ہے کہ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۔ یعنی جس طرح پر مرسلین اور انبیاء کو ہم اجر و ثواب اور مدارج عنایت فرماتے ہیں اسی طرح پر جو لوگ ان کے متبعین میں سے احسان کا درجہ رکھنے والے ہیں ان کو بھی مراتب فضیلت دیتے ہیں وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ۔ آپ کی مرض کے لئے دعا کی جاوے گی مگر وقتاً فوقتاً ذریعہ مراسلت کے آپ یاد دلاتے رہیں ۔ ہاں یادر ہے کہ آپ نے علاج جسمانی اور اصلاح یا ترقی امور د نیوی کو مقدم رکھا ہے اور علاج روحانی کو مؤخر ڈالا ہے یہ طریقہ مسلک صواب نہیں ہے کیونکہ روحانی علاج دنیاوی امور سے مقدم ہونا چاہئے جبکہ کوئی انسان روحانی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے تب اللہ تعالیٰ کا فضل بالضرور اس کے شامل حال ہو جاتا ہے اور اس کی اصلاح دنیا وی بھی ہو جاتی ہے لا عکس ایسی شرط کرنا متقی کا کام نہیں ہے ۔ دیکھواؤل سورہ بقرہ کو الم - ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ - وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ غور کرو کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کے فرمایا ہے وہ بعد اصلاح روحانی کے ارشاد فرمایا گیا ہے و برعکس اور جس جگہ اللہ تعالی نے فتوحات دینی و دنیوی ا البقرة: ۲۵۴ الانعام : ۸۵ البقرة : ۲ تا ٢۵ البقرة : ۶