مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 456

مکتوبات احمد ۴۵۶ جلد پنجم اور جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہدی اور مسیح موعود کے لئے مشرقی بلاد میں مبعوث ہونا ارشادفرما دیا ہے چنانچہ صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث سے ثابت ہے جو بلفظ اوما الى المشرق وغ فرمایا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر مسیح موعود پر مشرق کی طرف کو اشارہ فرمایا تو دیار عرب میں مبعوث ہونا اس امام آخر الزمان کا کیونکر ثابت ہو سکتا ہے ۔ ہاں اُس کی تبلیغ کل دنیا میں پہنچ جاوے گی چنانچہ رفتہ رفتہ کل دنیا میں تبلیغ اس کی پہنچ رہی ہے۔ پھر عرب میں بھی تبلیغ اس کی پہنچ رہے گی ۔ اسی تبلیغ کا پہنچنا دیار عرب میں عرب کی طرف اس کا پہنچنا یا مبعوث ہونا ہی جیسا کہ الہام میں وارد ہو ہی چکا ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ یعنی نہیں مبعوث کیا ہے ہم نے تجھ کو بطور امامت اور مہدویت کے مگر واسطے رحمت تمام جہان کے لوگوں کے دیکھو مصر، افریقہ، امریکہ، یورپ وغیرہ تک ملکوں میں اس کی تبلیغ پہنچ گئی ہے اور اس کے مقابلہ سے امریکہ کا ڈوئی اب تک فرار ہے اور پکٹ لندن کا مفقود الخبر ہو گیا ہے اور پھر آپ انجام کو دیکھیں کہ مخالفین مذکور کی نوبت کہاں تک پہنچتی ہے۔ اور دروازہ خانہ کعبہ کے اُکھاڑے جانے میں جو روایات آئی ہیں وہ ایسی مختلف ہیں کہ شارحین حدیث بھی ان کی تدقیق و تطبیق میں حیران ہیں ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزُ الْكَعْبَةَ إِلَّا ذُو السويقتين مِنَ الْحَبْشَةِ رَوَاهُ أَبُو دَاوُد یعنی نہیں اکھاڑے گا خزانہ کعبہ کو مگر ایک حبشی جس کی دونوں پنڈلیاں بہت چھوٹی اور پتلی ہوں گی۔ یہ حدیث محل ندمت میں بیان کی گئی ہے دوسری روایت میں آیا ہے کہ إِنَّ الْمَهْدِيَّ يُخْرِجُ كَيْزَ الْكَعْبَةَ هَكَذَا فِي اللَّمَعَاتِ یعنی بے شک مہدی خزانہ کعبہ کو نکالے گا یہ محل مدح میں بیان کیا گیا ہے پس ان دونوں روایتوں میں تطبیق کیونکر ہو سکتی ہے بجز اس کے کہ کہا جاوے کہ کعبہ سے مراد اسلام ہے اور خزانہ اس کا جو مدفون ہے اس کے دروازہ میں وہ قرآن مجید کے معارف اور دقائق ہیں جو اس کے دروازہ یعنی سورہ فاتحہ میں مخزون ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ اس خزانہ معارف قرآنی کو یہ مہدی آخر الزمان تمام مسلمانوں کو تقسیم کر رہا ہے۔ دیکھو اس کی کتابوں