مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 455
مکتوبات احمد ۴۵۵ جلد پنجم ہو سکتا ہے کہ یہ مواطاق اسماء کی تو صد ہا جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسما کے ساتھ پائی جاتی ہے یا جس طرح پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد ان کی ماں کی طرف سے رکھا گیا اُس کا نام بھی احمد ہی رکھا جائے گا مگر ایک لطیف نکتہ کے ساتھ یعنی غلام احمد ۔ دیکھو تفصیل اس کی رقيمة الوداد مندرجہ الحکم نمبر میں ۔ اور یہ بات خوب یادر ہے کہ ان خلفاء اور سلاطین مذکور کو اس مسیح موعود سے کوئی نسبت نہیں ہے کیونکہ اس کی نسبت تو صحیح بخاری میں يضع الحرب آگیا ہے یہ تو مسیح موعود اور خاتم الخلفاء امت محمدیہ اور مہدی آخر الزمان ہے جس کے لئے آسمان وزمین شہادت دے رہے ہیں ۔ کسوف خسوف آسمانی سے لے کر زمینی طاعون تک صد ہانشان اس کی تصدیق کے لئے موجود ہیں ۔ ے آسمان بار دنشان الوقت میگوید ز میں ایس دو شاہد از پئے تصدیق من استاده اند اور فی الحقیقت ایسے عظیم الشان مہدی اور مسیح کی تصدیق کے لئے جب تک صد ہا نشا نہائے انہی موجود نہ ہوں تہ ما تب تک اس کی عظمت شان کیونکر ظاہر ہوسکتی ہے۔ لہذا آپ کو چاہئے کہ دو، سہ ۳ کتاب حضرت اقدس کی یا ہمارے رسائل کا ملاحظہ فرماویں جیسا کہ تریاق القلوب و تحفہ گولڑوی وغیرہ وغیرہ ہیں ۔ اور اگر کسی کے خیال میں ناموں مہدی کی نسبت یہی مرکوز ہے کہ وہی ہو ہو نام ہو تو پھر دریافت طلب یہ امر ہے کہ مہدی سوڈان نے بھی شروع ۳۰۰ ھ میں دعوئی مہدویت کیا پھر آپ نے اس کی سوانح میں دیکھا ہوگا کہ وہ قوم کا سید بھی تھا اور اس کے باپ کا نام عبدالله وکذا و کذا اور پھر اس کا جو کچھ انجام ہوا وہ بھی سب کو معلوم ہے اس کی کیا وجہ کہ بالآخر وہ کامیاب نہ ہوا اور یہ مسیح موعود بھی ۳۰۰ ا ھ ہی سے دعوی ما مور من اللہ ہونے کا کر رہا ہے اس کی ترقی روز بروز اب تک ہوتی چلی جاتی ہے ۔ صادق کے نشانوں کو کوئی نہیں چھپا سکتا اور کاذب صادق کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا اور پھر اس کی کارروائی کی تائید دعاؤں اور الہاموں اور کشفوں کے ذریعہ سے ہو رہی ہے۔ نصوص قرآنی شاہد ہیں کہ مفتری کا ذب ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہوگا ۔ دیکھو صيانة الناس عن وسواس الخناس وغیرہ کو۔