مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 436

مکتوبات احمد ۴۳۶ جلد پنجم این چنین صدق از بود اندر دلی گل بجوید جائے چون بلبلے گر تو افتی با دو صد درد و نفیر کس ہے خیزد که گردد دستگیر رو از خور تابان که من خود بر آرم روشنی از خویشتن پنج شقوت نخوت تافتن این همین آثار نا کامی بود عالمی را کور کردست این خیال سرنگون افگند در و خامی بود چاه ضلال سوئے آبی تشنه را باید شتافت هر که جست از صدق دل آخر بیافت آں خرد مندے کہ جوید کوئے یار آبرو ریزد ز بہر روئے یار خاک گردد تا ہوا بایدش گم شود تاکس رہے بنمایدش بے عنایات خدا کار است خام پخته داند این سخن را والسلام بر ۱۶۹۔ اگر ایسا صدق کسی کے دل میں ہو تو وہ بلبل کی طرح پھول کو اپنا ٹھکانا بنالیتا ہے۔ ۱۷۰۔ اگر تو دو سو چیخوں اور آہوں کے ساتھ گر پڑے تو پھر ضرور کوئی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ا ۱۷۱۔ ( یہ خیال کر کے ) روشن سورج سے منہ پھیر لینا کہ میں اپنے اندر سے آپ ہی روشنی پیدا کرلوں گا۔ ۱۷۲۔ یہی تو نامرادی کے آثار ہوا کرتے ہیں بدبختی کی جڑ تکبر اور خامی ہے۔ ۱۷۳۔ اس خیال نے ایک جہان کو اندھا کر رکھا ہے اور اسے گمراہی کے کنوئیں میں سر کے بل ڈال دیا ہے ۔ ۱۷۴۔ پیاسے کو پانی کی طرف دوڑ نا چاہئے جس نے صدق دل سے تلاش کی اس نے آخر کار مقصود کو پالیا۔ ۱۷۵۔ وہ آدمی عقلمند ہے جو یار کی گلی ڈھونڈتا ہے اور روئے یار کی خاطر اپنی عزت ڈبوتا ہے۔ ۱۷۶۔ وہ خاک بن جاتا ہے کہ ہوا اسے لے اُڑے اور فنا ہو جاتا ہے تا کہ کوئی اسے راستہ دکھائے۔ ۱۷۷۔ خدا کی مہربانی کے بغیر کام اُدھورا رہتا ہے عقلمند ہی اس بات کو جانتا ہے۔ والسلام