مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 434

مکتوبات احمد ترک خود کردیم بهر آن خدا اندرین ره در دسر بسیار نیست گرنه او خواندی مرا از فضل و جود ۴۳۴ از فنائے م جلد پنجم پدید آمد جان بخواهد دادنش دشوار نیست فضولی کردی بیسود بود صد از نگا ہے این گدا را شاه کرد قصہ ہائے راه ما کوتاه کرد راه خود بر من کشود آن دلستان دانمش از انسان که گل را با غبان هر که در عهدم ز من ماند جدا پر نے ٹور دلستان شد سینه ام و جفا می کند بر نفس خود جور شد ز دستے صیقل آئینہ ام پیکرم شد پیکر یارِ ازل کار من شد کار دلدار ازل بسکه جانم شد نهان در یار من بوئے یار آمد ازین گلزار من نور حق داریم زیر چادری از گریبانم برآمد دلبرے احمد آخر زمان نام من است آخرین جامے ہمین جام من است ۱۴۷۔ اس خدا کے لئے جب ہم نے اپنی خودی ترک کر دی تو ہماری فنا کے نتیجہ میں بقا ظا ہر ہو گئی۔ ۱۴۸۔ اس راستے میں زیادہ تکلیف اٹھانی نہیں پڑتی وہ صرف جان مانگتا ہے اور اس کا دینا مشکل نہیں ہے۔ ۱۴۹۔ اگر وہ خود اپنے فضل و کرم سے مجھے نہ بلاتا تو خواہ میں کتنی ہی کوششیں کرتا سب بے فائدہ تھیں۔ ۱۵۰۔ اس نے ایک نظر سے اس فقیر کو بادشاہ بنادیا اور ہمارے لمبے راستہ کو مختصر کر دیا۔ ۱۵۱۔ اس محبوب نے خود اپنا را نے خود اپنا راستہ میرے لئے کھولا میں یہ بات اس طرح جانتا ہوں جیسے باغبان پھول کو۔ ۱۵۲۔ جو میرے زمانہ میں مجھ سے جدا رہتا ہے تو وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ ۱۵۳۔ محبوب کے نور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا۔ ۱۵۴۔ میر اوجود اس یا راز لی کا وجود بن گیا اور میرا کام اس دلدار قدیم کا کام ہو گیا۔ ۱۵۵۔ چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہوگئی اس لئے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی۔ ۱۵۶۔ ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا۔ ۱۵۷ احمد آخر زماں میرا نام ہے اور میرا جام ہی ( دنیا کے لئے ) آخری جام ہے۔