مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 433

مکتوبات احمد تا نه قربان خدائے خود شویم تا نه باشیم از وجود خود برون تا نه برما مرگ آید صد ہزار ۴۳۳ جلد پنجم تانه محو آشنائی خود شویم تانه گردد پُر از مهرش اندرون کے حیاتی تازه بینیم از نگار تا نہ ریزد ہر پر و بالے کہ ہست مرغ ایں ره را پریدن مشکل است بد نصیبی آنکه وقتش شد بیاد یار آزرده دل اغیار شاد از خرد مندان مرا انکار نیست لیکن این ره راه وصل یار نیست تا نه باشد عشق نماید نگار بے چگون چون نهان است آن عزیزی محترم ہے گزیند لاجرم آن رہے کو عاقلان بگزیدہ اند پرده ها بر و سوداء و جنون نه جلوه ہر کسے را از تکلف روئے حق پوشیده اند پرده ها افراخته مطلبی نزدیک ما که با دیدار او رو تافتیم دور انداخته از ره عشق و فنایش یافتیم ۱۳۶ ۔ جب تک ہم اپنے خدا پر قربان نہ ہو جائیں اور جب تک اپنے دوست کے اندر محو نہ ہو جائیں۔ ۱۳۷۔ جب تک ہم اپنے وجود سے علیحدہ نہ ہو جائیں اور جب تک سینہ اس کی محبت سے بھر نہ جائے۔ ۱۳۸۔ جب تک ہم پر لاکھوں موتیں وارد نہ ہوں تب تک ہمیں اس محبوب کی طرف سے نئی زندگی کب مل سکتی ہے۔ ۔ ۱۳۹۔ جب تک اپنے اگلے بال و پر نہ جھاڑ ڈالے تب تک اس راہ کے پرندے کے لئے اُڑ نا مشکل ہے ۔ ۱۴۰۔ بد قسمت ہے وہ شخص جس کا وقت برباد ہو گیا۔ یار ناراض ہو گیا اور دشمنوں کا دل خوش ہوا۔ ۱۴۱۔ مجھے داناؤں کی عقلمندی سے انکار نہیں ہے مگر یہ یار کے وصل کا راستہ نہیں۔ ۱۴۲۔ جب تک عشق اور سودا اور جنون نہ ہو تب تک وہ بے مثال محبوب اپنا جلوہ نہیں دکھاتا۔ اپنا ۱۴۳۔ چونکہ وہ عزت والا محبوب پوشیدہ ہے تو ہر شخص کوئی نہ کوئی راستہ (اس سے ملنے کے لئے ) اختیار کرتا ہے۔ ۱۴۴ لیکن عقل والوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے تو انہوں نے یہ تکلف خدا کے چہرہ کو اور بھی چھپا دیا ہے۔ ۱۴۵۔ پہلے پردوں پر اور پردے ڈال دیئے مقصد نزدیک تھا مگر اسے اور دُور کر دیا۔ ۱۴۶۔ ہم لوگ جنہوں نے اس کے دیدار سے اپنا چہرہ روشن کیا ہے ہم نے تو اسے عشق اور فنا کے راستہ سے پایا ہے۔