مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 426

مکتوبات احمد ۴۲۶ جلد پنجم احمد اندر جان احمد شد پدید اسم من گردید آن اسم وحید فارغ افتادم بدواز عز و جاه دل از کف و از فرق افتاده کلاه برمن این بهتان که من زان آستان تافتم سر این چه کذب فاسقان گمان دشمنی بر سر بتابد زان مه من چون منی لعنت حق آن منم کاندر ره آن سرورے در میان خاک و خون بینی سرے تیغ گر بارد بکوئے آن نگار آن منم کاول کند جان را شمار گر ہمین کفر است نزد کین ورے و خوش نصیبی آنکه چون من کافرے کا فرم گفتند دجال و العین من ندانم این چه ایمان ست و دین ایں طبیعت ہائے شان چون سنگ ہاست در بر شان گردلے بودے کجاست کار اینان ہر زمانے افتراست یار اینان ہر دے حرص و ہوا ست دل پر از خبث است و باطن پُر زیر صحت نیست از ایشان دور تر ۵۹۔ احمد کی جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے۔ ۶۰ ۔ اس کے عشق میں میں عزت و جاہ سے مستغنی ہو گیا ۔ دل ہاتھ سے جاتا رہا اور سر سے ٹوپی گر پڑی۔ ۶۱ ۔ مجھ پر یہ افترا کہ میں اس درگاہ سے روگردان ہوں ۔ فاسق لوگوں کا یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ ۶۲ ۔ کیا میرے جیسا شخص اپنے اس چاند سے منہ پھیر سکتا ہے؟ دشمن کے اس خیال پر خدا کی لعنت ہو۔ ۶۳ ۔ میں تو وہ ہوں کہ اس سردار کی راہ میں تو میرا سر خاک اور خون میں لتھڑا ہوا دیکھے گا۔ ۶۴ ۔ اگر اس محبوب کی گلی میں تلوار چلے تو میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کرے گا۔ ۶۵ - اگر دشمن کے نزدیک یہی کفر ہے تو وہ بڑا خوش نصیب ہے جو میری طرح کا کافر ہے۔ ۶۶ ۔ ان لوگوں نے مجھے کا فردجال اور لعنتی کہا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کونسا دین وایمان ہے۔ ۶۷ ۔ ان کی طبیعتیں پتھر کی طرح سخت ہیں ان کے پہلو میں اگر دل ہے۔ تو دکھاؤ وہ کہاں ہے۔ ۶ ۔ ان لوگوں کا کام ہر وقت افترا پردازی ہے اور حرص و ہوا ہر دم ان کی رفیق ہے۔ ۶۹ ۔ ان کے دل خباثتوں سے پُر ہیں اور ان کے باطن شرارتوں سے نیک نیتی ان سے بہت دور ہے۔