مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 425

مکتوبات احمد نور فرقان می کشد سوئے خدا چوں دو ۴۲۵ جلد پنجم می توان دیدن از و روئے خدا ما چه سان بندیم زان دلبر نظر ہمیچو روئے او کجا روئے دگر روئی من از نور روئے او بتافت یافت از فیضش دل من هرچه یافت و چشم کس نداند آن جمال جان من قربان آن شمس الكمال هم چنین عشقم بروئے مصطفیٰ دل پرد چون مرغ سوئے مصطفیٰ تا مرا دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر منکه می بینم رخ آن دلبری جان فشانم گر دہر دل دیگرے ساقی من هست آن جان پرورے ہر زمان مستم کند از ساغری محو روئے او شدست ایں روئے من ہوئے او آید ز بام و کوئے من بس که من در عشق او هستم نهان من همانم من همانم من همان جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیان شد آن ذکا ۴۸۔ فرقان کا نور خدا کی طرف کھینچتا ہے اس سے خدا کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ ۴۹ ۔ ہم اس معشوق سے اپنی آنکھیں کیونکر بند کر سکتے ہیں اس کے چہرہ جیسا خوبصورت اور کوئی چہرہ کہاں ہے۔ ۵۰۔ میرا منہ اس کے منہ کے نور کی وجہ سے چمک اٹھا میرے دل نے جو کچھ بھی پایا اس کے فیض سے پایا ۔ ۵۱۔ جس قدر میری آنکھیں اس کے حسن کو جانتی ہیں کوئی نہیں جانتا میری جان کمالات کے اس سورج پر قربان ہے۔ ۵۲۔ ایسا ہی عشق مجھے مصطفیٰ کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفیٰ کی طرف اُڑ کر جاتا ہے۔ ۵۳۔ جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے۔ ۵۴۔ میں اس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اگر کوئی اسے دل دے تو میں اس کے مقابلہ پر جان نثار کر دوں۔ ۵۵ ۔ وہی روح پرور شخص تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے۔ ۵۶۔ یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اسی کی خوشبو آ رہی ہے۔ ۵۷- از بس کہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں۔ میں وہی ہوں۔ میں وہی ہوں۔ میں وہی ہوں۔ ۵۸۔ میری روح اس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے۔