مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 295

مکتوبات احمد ۲۹۵ جلد پنجم حضرت مولوی نور الدین صاحب اکثر دفعہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کرتے کہ حضور ہمارے کچھ بچے آریوں کے سکول میں پڑھتے ہیں۔ وہ ان کو تنگ کرتے ہیں اس لئے اپنا سکول ہونا چاہیے۔ جواب میں حضور فرماتے ٹھیک ہے۔ بہت اچھا غرضیکہ کئی ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آخر ایک روز بارہ بجے دن کے حضرت صاحب کے ہمراہ گول کمرہ میں کھانا کھانے کے لئے حضرت مولوی صاحب تشریف لے گئے اور بھی احباب تھے۔ وہاں سکول کا ذکر چل پڑا۔ حضرت مسیح موعود نے اس تجویز کو منظور فرمایا۔ اسی وقت موجودہ احباب میں سے بعض نے تھوڑا تھوڑا چندہ لکھایا جس کی میزان غالباً دس بارہ روپے ماہوار سے زیادہ نہ تھی۔ اس میں سب سے زیادہ پانچ روپے ماہوار حضرت خلیفہ المسیح اول کا تھا۔ پس اسی قدر ماہوار رقم کی بنا پر حضرت صاحب نے اللہ کے تو کل پر سکول کی بنیاد رکھ دی ۔ یہ سال ۱۸۹۸ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت نہ کوئی سکول کی عمارت تھی نہ ہی کوئی مدرس تھا۔ نہ سوائے میرے مستقل طور پر کوئی طالب علم موجود تھا۔ الم تاہم حضرت صاحب کے حکم سے جلدی ہی سکول کا اجرا کیا گیا۔ مفتی فضل الرحمن صاحب۔ شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی۔ شیخ عبد الرحیم صاحب ۔ شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی منشی فضل الدین صاحب کلانوری اور حافظ احمد اللہ صاحب مدرس بنائے گئے ۔ بعد میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بھی سکول میں جا کر ہمیں انگریزی پڑھایا کرتے تھے اور میں ان سے گھر پر عربی فارسی بھی پڑھا کرتا اور ان کی خدمت کیا کرتا۔ امرتسر سے حضرت صاحب کے حکم سے مکرمی شیخ یعقوب علی صاحب کو جو ان دنوں امرتسر سے اخبار الحکم نکالا کرتے تھے سکول کی ہیڈ ماسٹری کے لئے بلایا گیا۔ تاوہ قادیان میں رہ کر یہ کام سرانجام دیں اور اسی طرح مکرمی قاضی امیر حسین صاحب کو بطور مدرس دینیات بلایا گیا۔ جو ایم اے او ہائی سکول امرتسر میں مدرس دینیات تھے۔ سکول کے اجراء کے وقت سب سے بڑی جماعت اول مڈل تھی اور میں اسی میں پڑھتا تھا میں مکتوب نمبر 1 ۲ فهرست مکتوبات بنام حضرت شیخ محمد نصیب صاحب تاریخ تحریر بلا تاریخ بلا تاریخ صفحه ۲۹۶ ۲۹۷ رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعه ) نمبر ۱۵ صفحه ۲۳ تا ۳۲