مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 294
مکتوبات احمد ۲۹۴ جلد: حضرت شیخ محمد نصیب صاحب ولد شیخ قطب الدین صاحب - تاریخ بیعت ۱۶ اگست ۱۸۹۷ء لمس طلب علم کی غرض ۔ غرض سے ۱۶ اگست ۱۸۹۷ء کو قادیان دارالامان آئے اور پھر یہیں کے ہور ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سب سے اول حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفة المسیح الاول کی ؟ ما زیارت کی جن کی طرف مجھے بابو غلام رسول صاحب سٹیشن ماسٹر نے بھیجا تھا۔ وہاں چند اور احباب سے ملاقات ہوئی۔ گول کمرہ میں کھانے کا انتظام تھا۔ حضرت تھا۔ حضرت مسیح موعود ، مولوی صا۔ مولوی صاحب اور دوسرے احباب کو ملک غلام حسین صاحب اور پیراں دتہ پہاڑ یہ نے کھانا پیش کیا۔ کھانا کھانے کے بعد نماز ظہر مسجد مبارک ( جو اس وقت بالکل چھوٹی سی تھی۔ چوڑائی میں بہت کم ) میں حضور پر نور کی زیارت نصیب ہوئی۔ ملاقات پر حضور نے حالات دریافت فرمائے۔ اس وقت پادری مارٹن کلارک نے حضرت صاحب پر اقدام قتل کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔ چنانچه ۱۸ اگست کو گورداسپور مع قافلہ روانہ ہوئے ۔ تاریخ پیشی ۲۰ را گست تھی جب آپ گئے تو بارش کا نام و نشان نہ تھا۔ تشریف لے جانے کے بعد اسقدر بارش ہوئی کہ تمام راستے بند ہو گئے اور جناب ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ضلع نے ۲۳ را گست حکم سنانے کو تاریخ مقرر کی ۔ حضرت واپس نہیں آئے۔ ایک آدمی کے ذریعہ یہاں حضرت بیوی صاحبہ کو اطلاع کی کہ ہم حکم سن کر ہی آئیں گے۔ چنانچہ پیشگوئی کے ماتحت کامیاب واپس آئے۔ ان دنوں یہاں اپنا کوئی مدرسہ وغیرہ نہ تھا۔ مالیر کوٹلہ میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ایک سکول جاری کر رکھا تھا۔ جس کے ناظم مرزا خدا بخش صاحب مرحوم تھے۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے مجھے آریوں کے اینگلو ور نیکر مڈل سکول ( جس کا ہیڈ ماسٹر ایک سخت متعصب سومراج نام آریہ تھا) میں مجھے داخل کرا دیا۔ چند ماہ وہاں پڑھتا رہا۔ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور بھائی عبدالرحیم مجھے مضامین لکھ دیتے جو سکول میں سنائے جاتے اور اس سے وہ سخت جل جاتے ۔ آخر مجھے انہوں نے سکول سے خارج کر دینے کا ارادہ کیا۔ حکیم فضل دین صاحب مرحوم کی مالی اعانت سے خاکسار نے معمولی کاروبار ( خوردنی اشیاء بسکٹ وغیرہ ) شروع کیا۔ یہ سلسلہ بعد میں خاصی ترقی کر گیا۔