مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 584
مکتوبات احمد ۵۸۴ جلد چهارم مکتوب نمبرا خط آمدہ میر عباس علی سے حال انتقال فرزند آنمخدوم معلوم ہوا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہی مصائب ہیں جن پر صبر کرنے والوں کو حضرت خداوند کریم بشارت دیتا ہے أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ ۔ خداتع مو خدا تعالیٰ صبر جمیل بخشے اور نعم البدل عطا کرے۔ اکثر رسم اور عادت کے طور پر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر حقیقت ایمان یہی ہے کہ قضا و قدر کے نزول کے وقت مولیٰ کریم کے فعل پر انقباض پیدا نہ ہو۔ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ اگر کوئی مصیبت کے وقت بکمال انشراح إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے خدا تعالیٰ اس کو نعم البدل اس چیز کا عطا کرتا ہے جو تلف ہو گیا ہے ۔ یہ سمجھنا چاہئے کہ مومن کی بڑی دولت ایمان اور خوشنودی حضرت باری تعالیٰ ہے اگر یہ دولت مومن کو حاصل ہے تو کسی نوع کے نقصان سے اس کا کچھ نقصان نہیں ۔ انسان اپنی کو یہ نظری سے یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں فلاں چیزیں میری راحت کا موجب ہیں اور ان کے تلف ہو جانے سے میری زندگی تلف ہو جائے گی لیکن دراصل رنج اور راحت دونوں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنی عنایتوں سے بندوں کو حیران کر دیتا ہے اور کوئی چیز اس کے آگے انہونی نہیں ہے اس پر مضبوط ایمان سے تو کل کرنا چاہئے کہ وہ ذات پاک فی الواقعہ موجود ہے جس کے دست تصرف میں زمین آسمان اور ہر ایک چیز ہے۔ خدا داری چه غم داری ۔ یکم اکتوبر ۱۸۸۳ء ل البقرة: ۱۵۸ الحکم نمبر ۲۱ جلد۷ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۰۲