مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 480

مکتوبات احمد لد ٠٧ جلد چهارم نے اپنی تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا ہے۔ اور ہم محض دین اسلام کے خادم بن کر دنیا میں آئے ہیں اور دنیا میں بھیجے گئے ہیں نہ اس لئے کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور دین بناویں۔ ہمیشہ شیاطین کی رہزنی سے اپنے تئیں بچانا چاہئے اور اسلام سے سچی محبت رکھنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو بھلا نا نہیں چاہئے ۔ ہم خادمِ دین اسلام ہیں اور یہی ہمارے ظہور کی علت غائی ہے اور نبی اور رسول کے لفظ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں ۔ رسالت لغت عرب میں بھیجے جانے کو کہتے ہیں اور نبوت یہ ہے کہ خدا سے علم پا کر پوشیدہ باتوں یا پوشیدہ حقائق اور معارف کو بیان کرنا سواس حد تک مفہوم کو ذہن میں رکھ کر دل میں اس کے معنے کے موافق اعتقاد کرنا مذموم نہیں ہے مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں ۔ کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بحجر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے ۔ سودین کو بچوں کا کھیل بنانا نہیں چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجز خادمِ اسلام ہونے کے اور کوئی دعوی بالمقابل نہیں ہے اور جو شخص ہماری طرف اس کے خلاف منسوب کرے وہ ہم پر افترا کرتا ہے ہم اپنے نبی کریم کے ذریعہ سے فیض و برکات پاتے ہیں ۔ اور قرآن کے ذریعہ سے ہمیں فیض معارف ملتا ہے۔۔ ے۔ سومناسب ہے کہ ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے برخلاف کچھ بھی دل میں نہ رکھے۔ ورنہ وہی خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا جواب دہ ہوگا ۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں ہیں تو ہمارا سب کا روبار عبث اور مردود اور قابل مواخذہ ہے زیادہ خیریت ہے ۔ ی راگست ۱۸۹۹ء الحکم نمبر ۲۹ جلد ۳ مورخه ۱۷ را گست ۹۹ء صفحه ۶ والسلام