مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 457
مکتوبات احمد ۴۵۷ جلد چهارم حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر دسمبر ۱۸۸۳ء میں ریاست کپورتھلہ میں پھگواڑہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد محترم کا نام ( حافظ ) محمد سلیمان تھا ۔ آپ کے بچپن میں والد صاحب اور لڑکپن کی عمر میں والدہ صاحبہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ پانچویں یا چھٹی کلاس میں تھے کہ حضرت حاجی حبیب الرحمن صاحب حاجی پورہ کے ساتھ قادیان جانا شروع کیا اور بالآ خر ا ۱۹۰ ء میں حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر کے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے مصداق ہو گئے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رکو نہ ضلع بہرائج میں ملازمت کرنے لگ گئے ۔ وقتاً فوقتاً قادیان آتے رہتے اور مسیح پاک کا دیدار کرتے رہتے۔ آپ ان مجاہدین کی صف اول میں تھے جنہوں نے اندرون ملک کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں تبلیغ ، اشاعت اسلام کی توفیق پائی ۔ قادیان آنے سے قبل کپورتھلہ میں سکول ماسٹر تھے مگر بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقناطیسی محبت آپ کو کھینچ کر بالآخر دیار حبیب میں لے آئی اور آپ ستمبر ۱۹۰۶ء سے قادیان میں رہائش پذیر ہو گئے۔ ابتداء آپ مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے استاد مقرر ہوئے اور کئی سال تک نہایت اخلاص و محنت سے یہ خدمت سرانجام دی۔ ۱۵ جولائی ۱۹۱۹ء کو چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے ساتھ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے انگلستان روانہ ہوئے ۔ انگلستان میں کئی ماہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد آپ کو افریقہ بھجوایا گیا ۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کو آپ نے ساحل افریقہ پر قدم رکھا اور سب سے پہلے سیرالیون اور مغربی افریقہ کے دوسرے علاقوں میں پہنچے ۔ آپ کو حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوئی اور ہزاروں افریقی حلقہ بگوش احمدیت ہوئے ۔ ایک سال نائیجیر یا ٹھہرنے کے بعد دوبارہ