مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 425
مکتوبات احمد ۴۲۵ جلد چهارم مکتوب نمبرا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آپ کے مرسلہ مبلغ پچاس نے روپے مجھ کو پہنچے جو بطور امانت رکھے گئے مگر حال یہ ہے کہ نلکا کی اسقدر ضرورت نہیں کہ کنواں پاس موجود ہے۔ اور ایک ضرورت درپیش ہے اور وہ یہ ہے کہ پختہ مہمان خانہ کا صحن قابل فرش کے ہے ۔ اگر اس میں پختہ فرش ہو جائے تو مہمانوں کو یہ فائدہ ہوگا کہ اس صورت میں چار پائیوں کی چنداں ضرورت نہیں ہوگی اور غرباء مساکین اسی پر چٹائی بچھا کر سو سکتے ہیں اور صحن پاکیزہ اور صاف ہو جائے گا۔ مدت سے یہی تجویز میرے دل میں ہے لیکن باعث نہ میسر آنے سرمایہ کے ملتوی چلی آتی ہے۔ اس کا اندازہ معلوم کیا گیا تھا تو مال نہ ہوتے ہیں ۔ سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ یہ پچاس روپے اس کارخیر کے لئے امانت رکھے جائیں ۔ جب خدا تعالیٰ مبلغ دو سور و پیہ میسر کر دے تو پھر کام فرش کا شروع کرا دیا جائے ۔ یہ عمل بھی بطور صدقہ جاریہ کے ہے کیونکہ جب تک یہ فرش رہے گا غربا و مساکین کے کام دے گا ۔ تب تک آپ کو ثواب ہوتا رہے گا ۔ ے رفروری ۱۹۰۸ء لفافہ کا پتہ ۔ بمقام مڈھ رانجھا ضلع شاہ پور والسلام محرره غلام احمد بخدمت محبی اخویم میاں سراج الدین صاحب راقم خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ے فروری ۱۹۰۸ء الحکم جلد ۳۷ نمبر ۳۴ مورخه ۲۱ رستمبر ۱۹۳۴ ء صفحه ۸