مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 415
مکتوبات احمد ۴۱۵ جلد چهارم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي مکرمی محبتی اخویم منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج کارڈ مکرر آپ کا درباره خبر وفات عزیز بدرالدین موصول ہو کر اپنے دردناک الفاظ سے دوبارہ در دوغم کا تازہ کرنے والا ہوا ۔ خدا تعالیٰ عزیز مرحوم کی جدائی پر آپ کو صبر عطا فرما دے ۔ اور یہ سخت صدمہ جو آپ کو پہنچ گیا ہے ۔ خدا بفضل و کرم خاص اس کا بدل عطا کرے۔ یہ عاجز اپنے دل کا حال بیان نہیں کر سکتا کہ قدرت خدا تعالیٰ سے اس عاجز نے غائبانہ صدق و اخلاص عزیز مرحوم کی وجہ سے عزیز مرحوم کو اپنے دل میں جگہ دے دی تھی اور اپنے اول درجہ کے مخلصین اور محبین میں سے شمار کرتا ہے۔ اس واقعہ ہائلہ کی خبر پہونچنے سے چند روز پہلے ایسا اتفاق ہوا کہ اس عاجز نے ایک رسالہ آسمانی فیصلہ نام ایک مطبع میں چھپوایا تھا اور خدا تعالیٰ کی جناب میں نذر کر لی تھی کہ یہ سارا رسالہ مفت تقسیم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ تقسیم کر دیا گیا ۔ مگر اس کے مصارف کا غذ واجرت مطبع وغیرہ ایک سو روپیہ کے قریب ہو گیا تھا اور بوجه صورت متوکلا نہ روپیہ موجود نہ تھا اور میرے دل میں خیال آیا کہ یہ روپیہ بطور قرض کسی سے لے کر تقاضہ کنندوں کو ادا کروں اور سوچا کہ کہاں سے لوں ۔ بعد بہت سی سوچ کے میرے دل میں گزرا تھا کہ میں عزیز مرحوم ۔۔۔ تا وہ اس قدر روپیہ آپ سے لے کر مجھ کو بطور قرضہ بھیج ۔ دیں۔ یہ خط لکھنے کو تھا کہ آپ کا خط پہنچ کر ایک طوفان غم کا موجب ہوا ۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ ایک پیارا دوست ہمارا جوا را جو اخلاص میں اعلیٰ درجہ کا رنگ رکھتا تھا۔ اس سال میں ہم سے جدا ہو