مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 234
مکتوبات احمد ۲۳۴ مکتوب نمبر ۹۰ جلد چهارم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محتی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ گھر میں والدہ محمود کے دل میں یہ بہت خواہش ہے کہ مسنون طور پر ابھی نکاح برخوردار محمود احمد کا ہو جائے اور لڑکی چند روز رہ کر پھر چلی جائے اور بعد بلوغ پھر آجائے اس طور یہ تعلقات اور انس با ہمی بڑھ جائے گا۔ اور نیز یہ کہ فی التاخیر آفات ایک مشہور امر ہے میں جہاں تک اس میں غور کرتا ہوں ۔ مجھے اس خواہش میں کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کیونکہ صرف نکاح ہو جانا فریقین کے لئے سر دست اس خوشی کو پیدا کرے گا کہ وہ اپنے ایک فرض سے عمدہ طور پر سبکدوش ہو گئے ہیں اور اکثر امراء دہلی میں اسی طرح کرتے ہیں بلکہ بہت پہلے نابالغوں کا نکاح کر دیتے ہیں اور پھر اپنے وقت پر مراسم شادی بجالاتے ہیں ۔ اس لئے لکھا جاتا ہے کہ آپ کی اس میں کیا رائے ہے اگر اس میں آپ متفق ہوں تو آپ لکھیں کہ کس مہینہ میں اس کار خیر کے انجام کے لئے لڑ کا مع چند کس آپ کے پاس نکاح کے لئے پہنچ جائے اور مختصر طور زیور اور پار چات کا بندو بست کیا جائے ۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ