مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 190
مکتوبات احمد ۱۹۰ جلد چهارم از قادیان مکتوب نمبر ۲۳ نَحْمَدُهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محبتی عزیزی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی ڈاک میں آپ کا مبلغ پانچ صدر روپیہ مجھ کو پہنچا۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا ۔ آپ کو خدا تعالی بہت جزائے خیر بخشے ۔ آپ صدق اور وفا سے اپنے اُس وعدہ کو جو امداد لِلہ کے لئے کیا تھا ادا کر رہے ہیں اور یہ ایک ایسی عمدہ صفت ہے جو ایسے گندے زمانہ میں لاکھوں ، کروڑوں آدمیوں میں سے کسی کسی فرد بشر میں پائی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے واسطے بات اور وعدہ کا پاس جو سچی جواں مردی کی نشانی ہے بہت ہی کم لوگوں میں پایا جاتا ہے اور بیوی بچوں کی ہمدردیوں یا زینتوں میں ان کے مال خرچ ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یک دفعہ اس بے وفا دنیا سے واپس بلائے جاتے ہیں۔ دین کی طرف جھکنا انہیں دلوں کا کام ہے جن کو آخرت پر سچا ایمان ہوتا ہے۔ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں ۔ اور آپ میں رشد اور صلاح کے آثار پاتا ہوں۔ اور ایک خاص تعلق آپ کا سمجھتا ہوں ۔ ایک مرتبہ میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ اب میرے یہ چھوٹے تین لڑ کے محمود (ہفت ساله ) بشیر ( تین سالہ ) شریف ( پانچ ماہ) بہتر ہو کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے قریب بلوغ ہو کر بشرطیکہ جانبین کی اولاد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خیر و عافیت رہے ۔ آپ کی کسی لڑکی سے کوئی لڑکا منسوب ہو۔ یہ خیال صرف میرے اس نیک ظن سے پیدا ہوا تھا جو مجھے آپ کے باطنی اخلاص اور محبت پر ہے ۔ مگر پھر میں نے یہ خیال کیا کہ یہ سب امور آپ کے والد صاحب کے اختیار میں ہیں اور ابھی ان کا ذکر بھی نا مناسب ہے ۔ اگر کوئی ایسا موقعہ ہوا کہ آپ کی رائے بھی ان بزرگوں کی مجلس میں سنی جائے تب بشرط خیریت جانبین یہ تحریک ہو سکتی ہے ۔ اس شرط سے