مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 461
مکتوبات احمد ۳۲۱ جلد سوم مکتوب نمبر ۴ محبی اخویم سلمه السلام علیکم ورحمة ا م علیکم ورحمة الله و بركاته سجدہ میں دعا يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْتُ بہت پڑھو۔ اصل امرتز کیہ نفس ہے جو نہایت مشکل امر ہے خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی مدد مانگتے رہو ۔ میں بھی انشاء اللہ دعا کروں گا مگر ایسی دعا ئیں بہت زمانہ چاہتی ہیں یہی سنت اللہ ہے ۔ موتی کتوں کے منہ میں ڈالنا مراد رکھتا ہے کہ نا اہل کی تربیت کرنا نا اہل سے نیک امید رکھنا اور یہ سچ ہے کہ خبیث آدمی کی بیعت سے پر ہیز ضروری ہے۔ ابلیس آدم بسا بہر دستے نه روئے داد ہست دست اے پس بہر حال ہمت مردانه اور عزم درست اور استقامت اور خدا تعالیٰ کے سامنے صدق صفا آخر کا میاب کر دیتا ہے مگر صبر درکار ہے ۔ باید ☆ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۔۔۔۔۔ (نوٹ) اس مکتوب میں دعاؤں کی قبولیت کے لئے ایک اصل فرمایا ہے کہ عزم صحیح اور استقامت کو نہ چھوڑا جاوے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر آدمی اس کا اہل نہیں ہوتا کہ انسان اس کی بیعت کرے بلکہ احق اور اولی وہی لوگ ہیں جن کا وجود خدا نما ہو ۔ ( عرفانی کبیر ) الحکم نمبر ۹ جلد ۲۰ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۱۸ء صفحه ۳