مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 458
مکتوبات احمد ۳۱۸ جلد سوم مکتوب نمبرا محبی اخویم حافظ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط میں نے اوّل سے آخر تک پڑھ لیا ۔ یہ بات بہت درست ہے کہ سعید انسان کی علامت یہی ہے کہ جب تک گوہر مقصود ہاتھ نہ آوے سست نہ ہوا اور کسل کی طرف مائل نہ ہو۔ کسی نے سچ کہا ہے گر نباشد بدوست ره بردن شرط عشق است در طلب مردن خدا تعالیٰ کی طلب بڑا مشکل کام ہے ۔ گویا ایک موت ہے بلکہ درحقیقت موت ہے۔ پھر دوسرے پہلو میں عالی ہمت اور عالی فطرت ، وفادار دل کے لئے بہت سہل بھی ہے ۔ وہ وہ ہے جو زمانہ دراز کےطلب کو ایک ساعت سے بھی کم سمجھتا ہے۔ بقول حافظ گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیک بخون جگر شود مگر افسوس دنیا میں شتاب کاروں ، بدظنوں کا اور کم ہمتوں کا فرقہ بہت بہت ہے اور یہی لوگ محروم ازل سے ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مارنے سے عرش معلی تک پہنچ جائیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۔ والسلام خاکسار مرزاغلام احمد نوٹ ۔ اس مکتوب کو مکر رسہ مکرر پڑھو کہ اس میں سعادت کی علامت اور اس سے اس مقام رفیع کا بھی پتہ لگتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔ ل العنكبوت: ٣ الحکم نمبر ۹ جلد ۲۰ مورخه ۷ را پریل ۱۹۱۸ ء صفحه ۳