مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 406
مکتوبات احمد ۲۶۸ جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۵ محبی اخویم سیٹھ اسماعیل آدم صاحب سلمہ اللہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کے خط آمدہ سے واقعہ درد ناک آپ کی اہلیہ کی وفات سے اطلاع ہوئی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - دعا بہت کی گئی تھی مگر تقدیر مبرم کے ساتھ کیا چارہ ہے بجز اس کے کہ صبر اور رضا سے کام لیا جائے ۔ مجھے آپ کی زبانی معلوم ہے کہ آپ کی یہ اہلیہ مرحومہ بڑی خیر خواہ اور آپ کی تکالیف کے وقت خود اپنے آپ کو درد اور تکالیف میں ڈالتی تھی ۔ جب کہ آپ کو طاعون ہوئی تو آپ کی خدمت کرنے کے وقت اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی ۔ در حقیقت ایسی دلی خیر خوا ا نہ ۔ بیویاں بہت ہی کم ملتی ہیں اور ان کے مرنے سے زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور نیز ان کے مرنے سے خانہ داری کا انتظام تمام درہم برہم ہو جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی قضاء وقدر سے موافقت کرنا اور اس کی رضا پر راضی ہونا سچے ایماندار کا کام ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ وہ مصیبت کے وقت انشراح صدر سے صبر کرتے ہیں یا نہیں ۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ کی بیماری میں آپ کو بہت تکلیف ہے اس لئے دعا بار بار کی گئی مگر چونکہ آسمان پر ان کی موت مقرر ہو چکی تھی اور عمر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اس لئے دُعا بے سو تھی ۔ بہر حال اب آپ کو صبر کرنا چاہئے ۔ خدا تعالیٰ قادر ہے کہ کسی نعم البدل سے اس درد کو دور کر دے ۔ آپ کی موجودہ تکالیف کی گھبراہٹ تو بے شک آپ کو بہت صدمہ پہنچا رہی ہو گی مگر صبر کریں خدا آپ کو اس مصیبت کی جزا دے ۔ آمین ۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ ۳ رمئی ۱۹۰۷ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد بقلم خود