مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 263

مکتوبات احمد ۲۰۲ مکتوب نمبر ۱۳ جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے تفرقہ اور واقعہ وفات آپ کی دادی صاحبہ سے بہت حزن و غم ہوا۔ خدا تعالیٰ آپ کو تسلی بخشے ۔ میں تم پر بہت راضی ہوں اور جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے دل میں خلوص اور محبت بھری ہوئی ہے اور لوگوں کے بگڑنے اور بدظن ہو جانے سے مجھے اندیشہ نہیں بلکہ راحت ہے ۔ خس کم جہاں پاک ۔ میں مخلوق پرست نہیں ہوں کہ مخلوق کی دوستی یا دشمنی پر نظر رکھوں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۲۸ اکتوبر ۱۸۸۷ء والسلام ۔ خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر ۱۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی مکرمی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ بشیر ال سخت ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ تین مرتبہ اس پر ایسی نوبت آئی کہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا آخری دم ہے مگر اب بفضلہ تعالیٰ بہت آرام ہے ۔ میاں اسمعیل کے وفات فرزند محل غم واندوہ ہے ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - اسمعیل بیچارہ پر بڑا صدمہ ہوا۔ خدا تعالیٰ اسے صبر بخشے ۔ میں نے ایک اشتہار آپ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ یقین کہ پہنچ گیا ہو گا۔ ہمیشہ خیر و عافیت سے مطلع فرماتے رہیں ۔ ۱۱ اگست ۱۸۸۸ء والسلام ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان بشیر اول ہے یہاں پر بیمار کا لفظ اصل خط سے ہی رہ گیا ہوا ہے ۔ اس لئے یہاں جگہ خالی چھوڑی گئی ہے۔