مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 243
مکتوبات احمد ۱۸۲ جلد سوم ۱۹۰۶ء میں منشی صاحب مرحوم نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں مندرجہ ذیل عریضہ لکھا جو درج ذیل ہے ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هُوَ رَحْمَةٌ لِّلْعَلَمِينَ - أَمَّا بَعْدُ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ قادیان میں دوکان نکالنے کے واسطے میں نے سفر اختیار کیا کہ اگر برادرم اللہ دتہ صاحب بطریق سابق روپیہ منافع پر دے دے تو دوکان کی جائے مگر اتفاقاً انہوں نے چھترے خریدے ہوئے تھے۔ پھر میں سیالکوٹ گیا۔ وہاں بعض نے ہمدردی دکھائی اور کہا ملازمت چاہو تو مل سکتی ہے ۔ ورنہ دوکان کرو تو روپیہ منافع پر مل جائے گا یا شراکت کرو تو ہم شریک بھی ہو سکتے ہیں مگر میں اب شراکت سے بیزار ہوں ۔ البتہ منافع پر لے لوں گا یا ملازمت کرلوں گا۔ میرے پاس سندات موجود ہیں ۔ اب حضورا جازت فرمائیں تو میں اپنا عیال سیالکوٹ لے جاؤں اور دعا کریں کہ رب العلمین دین و عقبی نیک کرے ۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ۔ آمین ۔ اگر چہ میں عاصی پر تقصیر ہوں مگر امیدوار ہوں کہ اللہ کریم ، رحیم ، ربّ العالمین آپ کے طفیل آپ کے جلیس کو دنیا و آخرت میں خوار نہیں فرمائے گا۔ مجھے حضور علیہ السلام کی جدائی کا سخت رنج رہے گا جب تک پھر نہ میں آؤں گا ۔ مگر جدائی میں اپنے غریب مرید کو محض اللہ یا دفرماتے رہنا اور اپنی دعاؤں میں شامل کرتے رہنا ۔ عاجزا نہ عرض ہے۔ مورخه ۴ را گست ۱۹۰۶ء والسلام فدوی محمد شادی خان کمترین مریداں