مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 221
مکتوبات احمد ١٦٠ ۱۹ / رجب ۱۳۰۶ ھ کو بمقام لودہا نہ بیعت کی تھی اور بیعت کرنے والوں میں ان کا نمبر پانچواں تھا جیسا کہ سیرۃ المہدی ( جلد اول ) حصہ سوم کے صفحہ ۵۰۰ (جدید ایڈیشن ) سے ظاہر ہوتا ہے چونکہ پہلے آٹھ نمبر کے احباب کے نام قیاس اور دوسری روایات کی بنا پر لکھے ہیں اس لئے مولوی صاحب کی سکونت کے متعلق بھی محض قیاس سے چارسدہ یا خوست لکھ دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تنگی تحصیل چارسدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے اور سلسلہ میں پہلے آدمی تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت کی اجازت دی ۔ چنانچہ جو اجازت نامہ ان کو لکھ کر دیا گیا اسے میں نے مکتوبات ہی کے سلسلہ میں درج کر دیا ہے۔ (عرفانی کبیر ) جلد سوم مکتوب نمبرا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى اما بعد از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مولوی اب ابوالخیر عبداللہ پشاوری بعد از سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ہیں بوجہ واضح باد که چونکہ اکثر حق کے طالب کہ جو اس عاجز سے بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ناداری و سفر و دور دراز یا بوجه کم فرصتی و مزاحمت تعلقات قادیان میں بیعت کے لئے پہنچ نہیں سکتے اس لئے باتباع سنت حضرت مولانا وسید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ایسے معذور و مجبور لوگوں کی بیعت ان سعید لوگوں کے ذریعہ سے لی جائے کہ جو اس عاجز کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں ۔ سو چونکہ آپ بھی شرف اس بیعت سے مشرف ہیں اور جہاں تک فراست حکم دیتی ہے، رُشد اور دیانت رکھتے ہیں ۔ اس لئے وکالتا اخذ بیعت کے لئے آپ کو یہ اجازت نامہ دیا جاتا ہے۔ آپ میری طرف سے وکیل ہو کر اپنے ہاتھ سے بندگانِ خدا سے جو طالب حق ہوں بیعت لیں مگر انہیں کو اس سلسلۂ بیعت میں داخل کریں کہ جو سچے دل سے اپنے معاصی سے توبہ کرنے والے اور