مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 143
مکتوبات احمد الله جلد سوم مکتوب نمبر ۵۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ آپ ضرور اس شخص نان بائی کو ساتھ لے آویں جو کرا یہ ہو گا اس جگہ دیا جائے گا اور مبلغ عنہ روپیہ کا تنور بھی ساتھ خرید کر لے آویں اور اگر روپیہ نہ ہو تو بوا پیسی ڈاک عن مجھ کو اطلاع دیں کہ تا یہاں سے مبلغ ہیں کو پید اور کراہ بھیج دیا جائے مگر جلد اطلاع دیں لیکن یہ بات رو یہ اس کو سنا دینی چاہئے کہ اکثر دو وقت ایک ننوا کے قریب مہمانوں کی روٹی پکانی پڑتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ صرف دس این آدمی کی روٹی پکا سکتا ہو۔ یہ تنخواہ تو ہمیں منظور ہے اور تنور خریدنے کے لئے آپ کو کہہ دیا ہے ۔ مگر یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ آیا اس میں یہ طاقت ہے کہ ساٹھ ستر یا ایک سو آدمی کی تنور میں ہر روز وہ روٹی طیار کر دے گا اور دلّی کے نان بائیوں کی طرح عمدہ اور صاف روٹی ہوگی ۔ اگر وہ اپنی باتوں میں سچا ہے تو بہتر ہے اور بہت خوب ہے۔ صرف یہ خیال ہے کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جو صرف دس ہیں روٹیاں پکا سکتے ہیں۔ مگر یہاں لنگر خانہ میں بعض اوقات دو دو سو آدمی مہمان جمع ہو جاتے ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے۔ غرض اگر ہر طرح پر قابل ہو تو میری طرف سے اجازت ہے کہ عنہ روپیہ کا تنور خرید دیں اور اپنی طرف سے کرایہ دے کر لائیں اور اگر بطور قرضہ دو چار دن کے لئے روپیہ مل جائے یعنی جس صورت میں آپ کے پاس نہ ہو تو قرضہ لے کر تنور لے لیں اور اگر روپیہ نہ ہو اور نہ ملے تو اطلاع دیں تافی الفور بھیج دیئے جاویں۔ والسلام ۲۳ را پریل ۱۹۰۶ء خاکسار مرزا غلام احمد آپ کے گھر میں سب خیر و عافیت سے ہیں اور لڑکا ہر طرح اچھا ہے ۔