مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 131
مکتوبات احمد ۱۲۳ جلد سوم مکتوب نمبر ۱ ۵ مکرمی اخویم صاحبزادہ صاحب سلمه تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک بڑی بھاری بحث مولوی نذیر حسین صاحب سے پیش ہے۔ اگر آپ اس بحث پر تین چار روز تک پہنچ سکیں تو عین خوشی اور تمنا ہے مگر آنے میں توقف نہیں ۔ چاہئے ۔ آپ کے آنے سے سے بہت مدد ملے گی ۔ ۱۱ راکتو بر ۱۸۹۲ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ مقام دہلی بازار بیماراں کوٹھی نواب لوہارو (نوٹ ) صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے اپنے سفر نامہ میں دہلی آنے اور مباحثہ کے متعلق بعض حالات کا تذکرہ لکھا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدام کو شریک ثواب ہونے کا ہر موقعہ دیا کرتے تھے ۔ صاحبزادہ کو اس موقعہ پر اس خدمت میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ دہلی کے علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت اقدس کو اگر کسی کتاب کی ضرورت پڑے تو نہ دی جائے۔ حق پوشی کے اس مظاہرے سے انہوں نے اپنی جگہ یہ سمجھا تھا کہ وہ حق کا مقابلہ کر سکیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے غیب سے کتابوں کے میسر آنے کے سامان تو پیدا کر دیئے مگر ان دشمنان حق کو باوجود اپنے ہر قسم کے ساز و سامان کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ ہوئی اور سید نذیر حسین استاذ الکل کہلانے کے باوجود مقابلہ سے فرار کر گیا۔ یہ واقعات بجائے خود بہت دلچسپ ہیں اور انشاء اللہ سوانح حیات میں آجائیں گے۔ اسی سلسلہ میں سید نذیر حسین صاحب کے ایک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ