مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 92

مکتوبات احمد ۹۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت مولوی نورالدین صاحب سلمه تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ طبیعت اس عاجز کی بفضلہ تعالیٰ اب کسی قدر صحت پر ہے ۔ گھر میں بھی طبیعت اصلاح پر آگئی ہے۔ محمود کو بخار آتا ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ اسی حالت میں آپ کے دوست کیلئے چند روز بجد وجہد جیسا کہ شرط ہے، توجہ کروں مگر افسوس که بباعث آمد قاضی غلام مرتضی کے میں مجبور ہو گیا ۔ وہ برابر دس روز تک اس جگہ رہیں گے۔ چونکہ بہت حرج اُٹھا کر آئے ہیں اور دور سے خرچ کثیر کر کے آئے ہیں اس لئے بالکل نامناسب ہے کہ ان کی طرف توجہ نہ ہو ۔ پھر ان کے ساتھ ہی سیدا میر علی شاہ صاحب لاہور سے آنے والے ہیں وہ برابر پندرہ روز تک رہیں گے ۔ ان کے جانے کے بعد انشاء اللہ القدیر ، توجہ کا مل کروں گا ۔ صرف ایک اندیشہ ہے کہ لدھیانہ میں ایک شخص نے محض نادانی سے ایک خون کے مقدمہ میں میری شہادت لکھا دی ہے کہ جو کمیشن کے سامنے ادا کی جائے گی ۔ شاید دو چار روز اس جگہ بھی لگ جاویں ۔ آپ کے دوست نے اگر بے صبری نہ کی جیسی کہ آج کل لوگوں کی عادت ہے تو محض اللہ ان کے لئے توجہ کروں گا ۔ مشکل یہ ہے کہ انسان دنیا میں منعم ہو کر بہت نازک مزاج ہو جاتا ہے۔ پھر ادنی ادنی انتظار میں نازک مزاجی دکھاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر احسان رکھنے لگتا ہے اور حسن ظن سے انتظار کرنے والے نیک حالت میں ہیں ۔ و قليل منهم اس خط سے میری اصل غرض یہ ہے کہ میر عباس علی صاحب ہیں دن سے آئمکرم کی دوا کی انتظار کر رہے ہیں۔ کل سے بخار آتا ہے۔ نہایت شکستہ خاطر ہیں ۔ کل رقعہ لکھ کر مجھے دیا تھا کہ دوا تو آتی نہیں ، مجھے اجازت دیجئے تا میں لودہا نہ میں چلا جاؤں ۔ مگر پھر میں نے دو چار دن کیلئے ٹھہرا لیا ہے۔ آپ براہ مہربانی ضرور بحجر دپہنچنے اس خط کے کوئی عمدہ دوا نفث الدم کی ارسال فرماویں اور اس شخص پر میرے عذرات معقولی طور پر منکشف کر دیں۔ ۲۵ جنوری ۱۸۹۰ء والسلام خاکسار غلام احمد