مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 78

مکتوبات احمد ۷۸ جلد دوم نہیں ۔ ان بزرگوں نے ہرگز ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بمقابل ان روحانی برکات کے کہ جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں سے صادر ہوتی ہیں۔ ایک آدھ اجتہادی غلطی کوئی چیز نہیں ۔ میں قطعاً و یقیناً کہتا ہوں اور علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ مجرد عقلی دلائل کا ذخیرہ اس شیریں اور اطمینان بخش معرفت تک نہیں پہنچا سکتا جس سے انسان بکلی خدا تعالیٰ کی طرف منجذب ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے فقط آیات آسمانی و مکالمات ربانی ذریعہ ہیں ۔ اس ذریعہ کو وہی مجنون الرحمن ڈھونڈتا ہے جو اپنے اندر سچی آگ تلاش کی پاتا ہے اور اپنے تئیں رسمی ایمان پر اکتفا کر کے دھو کہ دینا نہیں چاہتا ۔ فقط رسمی ایمان پر خوش ہونا ان لوگوں کا طریق ہے جن کے دل محبت دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور جو کبھی دن کو یا رات کو اور چلتے یا پلنگ پر لیٹے ہوئے اپنے ایمان کی آزمائش نہیں کر سکتے کہ کس قدر اس میں قوت ہے اور زبان کی چالا کی اور شعلہ منطق نے کہاں تک ان کے دلوں کو منور کر کے سیدھی راہ پر لگا دیا ہے اور کس درجہ تک جام یقین پلا کر محبت مولی بخش دی ہے؟ شاید بعض لوگ میری تقریر مندرجہ بالا کو پڑھ کر جو میں نے صفائی استعداد اور عالی فطرتی پسر متوفی کی بابت لکھا ہے اس حیرت میں پڑیں گے کہ جو بچہ صغرسنی میں مر جاوے اس کے علو استعداد کے کیا معنی ہیں ؟ سو میں ان کی تسکین کے لئے کہتا ہوں کہ کمال استعدادی اور پاک جوہری کے لئے زیادہ عمر پانا کچھ ضروری نہیں ۔ اور یہ بات عند العقل بدیہی ہے کہ بچوں کی استعدادات میں ضرور باہم تفاوت ہوتا ہے۔ گو بعض ان میں سے مریں یا زندہ رہیں ۔ وہ اندرونی قوتیں اور طاقتیں جو انسان اس مسافرخانہ میں ساتھ لاتا ہے وہ سب بچوں میں کبھی برابر نہیں ہوتیں ۔ ایک بچہ دیوانہ سا اور غبی معلوم ہوتا ہے اور منہ سے رال ٹپکتی ہے اور ایک ہو شیار دکھائی دیتا ہے۔ بعض بچے جو کسی قدر عمر پاتے ہیں اور مکتب میں پڑھتے ہیں ۔ نہایت ذہین اور فہیم معلوم ہوتے ہیں مگر عمر وفا نہیں کرتی اور صغر سنی میں مر جاتے ہیں ۔ پس تفاوت استعدادات میں کس کو انکار ہو سکتا ہے ۔ اور جس حالت میں صدہا بچے فہیم اور ذہین اور ہوشیار مرتے نظر آتے ہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ کمالات استعداد یہ کے لئے عمر طبعی تک پہنچنا ایک ضروری امر ہے۔ سیدنا ومولانا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابراہیم اپنے لخت جگر کی نسبت بیان کرنا کہ اگر وہ جیتا رہتا تو صدیق یا نبی ہوتا ، بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔سواسی طرح خدائے عزوجل نے مجھ پر کھول دیا ہے کہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے کمالات استعداد یہ میں اعلیٰ درجہ