مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 75
مکتوبات احمد ۷۵ جلد دوم سو مو سو بشیر کی موت مومنوں کو برکت دینے کے لئے ان طریقوں میں سے ایک عمدہ طریقہ ہے ۔ گوکوئی شخص اس عاجز پر اعتقاد ر کھے یا نہ رکھے اور اس ضعیف کو ملہم سمجھے یا نہ سمجھے مگر بشیر کی موت سے اگر محض اللہ اس کو غم پہنچا ہے تو بلا شبہ بشیر اس کے لئے فرط اور شفیع ہوگا۔ ہے بلاشہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء کو اشتہار میں کہ جو بظاہر ایک لڑکے کی بابت پیشگوئی سمجھی گئی تھی ۔ وہ در حقیقت دولڑکوں کی بابت پیشگوئی تھی ۔ یعنی اشتہار مذکور کی پہلی یہ عبارت کہ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے ۔ وہ رجس سے ( یعنی گناہ سے ) پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے ۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے ) یہ تمام عبارت اسی پسر متوفی کے حق میں ہے۔ اور مہمان کا وہ لفظ جو اس کے حق میں استعمال کیا گیا ہے یہ اس کی چند روزہ زندگی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رہ کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہو جاوے۔ اور بعد کا وہ فقرہ مصلح موعود کی طرف اشارہ ہے اور اخیر تک اس کی تعریف ہے۔ چنانچہ آپ کو اور اجمالاً سب کو معلوم ہے کہ بشیر کی موت سے پہلے ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی شائع ہو چکی ہے کہ ایک اور لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو اولوالعزم ہوگا اور ۸ ا پریل ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں وہ فقرہ الہامی کہ ”انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بشیر کی موت سے پہلے جب آپ قادیان میں ملاقات کے لئے تشریف لائے تو زبانی بھی اس آنے والے لڑکے کے بارہ میں آپ کو الہام سنا دیا گیا تھا۔ یعنی یہ کہ ایک اولو العزم پیدا ہوگا ۔ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۔ وہ حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ سو اس الہام الہی نے پہلے سے ظاہر کر دیا کہ لڑکا ایک نہیں بلکہ دو ہیں ۔ ہاں کسی مدت تک یہی اجتہادی غلطی رہی کہ لڑکا ایک ہی سمجھا گیا ۔ ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء ( کی ) پیشگوئی جو لڑکے کی بابت تھی ۔ وہ در حقیقت دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی ۔ جو غلطی سے ایک سمجھی گئی اور پھر بعد میں بشیر کی موت سے پہلے خود الہام نے اس غلطی کو رفع کر دیا ۔ اگر الہام اس غلطی کو بشیر کی موت سے پہلے رفع نہ کرتا تو ایک غبی کو شبہات پیدا ہونے ممکن تھے مگر اب کوئی گنجائش شبہ کی نہیں ۔ حضرت مسیح نے اجتہادی طور پر بعض اپنی پیشگوئیوں کو ایسے طور سے سمجھ لیا تھا کہ اس طور سے وقوع میں نہیں آئیں اور حضرات حواریان بھی جو عیسائیوں کے نزدیک نبی کہلاتے ہیں ، کئی دفعہ پیشگوئیوں کے سمجھنے میں غلطی