مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 74

مکتوبات احمد ۷۴ جلد دوم وَمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا - كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ ، پس اس الہام میں صاف فرما دیا کہ وہ ابر رحمت ہے مگر اس میں سخت تاریکی ہے۔ اس تاریکی سے وہی آزمائش کی تاریکی مراد ہے جو لوگوں کو اس کی موت سے پیش آئی اور ایسے سخت ابتلاء میں پڑ گئے جو ظلمات کی کی طرح تھا۔ یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ یہ عاجز اجتہادی غلطی سے اس خیال میں پڑ گیا تھا کہ غالباً یہ لڑکا مصلح موعود ہوگا جس کی صفائی باطنی اور روشنی استعداد اور تطہر اور پاکیزگی کی اس قدر تعریف کی گئی ہے مگر اجتہادی غلطی کوئی ایسا امر نہیں ہے کہ نفس الہام پر کوئی دھبہ لگا سکے ۔ ایسی غلطیاں اپنے مکاشفات کے سمجھنے میں بعض نبیوں سے بھی ہوتی رہی ہیں ۔ بایں ہمہ جب لوگ پوچھتے رہے کہ کیا یہ لڑکا مصلح موعود ہے تو ان کو یہی جواب دیا گیا کہ ہنوز یہ امر قیاسی ہے۔ چونکہ خداوند تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو ابتلائے عظیم میں ڈالے اور سچوں اور کچوں میں فرق کر کے دکھلا دے۔ اسی وجہ سے یہ عاجز کہ ایک ضعیف بشر ہے اس ارادہ کا مغلوب ہو گیا اور یوں ہوا کہ اس لڑکے کی پیدائش کے بعد اس کی طہارت باطنی اور صفائی استعداد کی تعریفیں ا الہام میں بیان کی گئیں اور پاک اور نُورُ الله اور يَدُ الله اور مقدس اور بشیر اور خدا با ماست اس کا نام رکھا گیا ۔ سوان الہامات نے یہ خیال پیدا کر دیا کہ غالباً یہ وہی مصلح موعود ہوگا مگر پیچھے سے کھل گیا کہ مصلح موعود نہ تھا ۔ مگر مصلح موعود کا بشیر تھا اور روشن فطرتی اور کمالات استعداد یہ میں بہت بڑھا ہوا تھا اور وہ ہزاروں مومنوں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں شریک ہوئے بطور فرط کے ہوگا ۔ پس یہ نہیں کہ وہ بے فائدہ آیا بلکہ خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا کہ اس کی موت جو عظیم الشان ابتلاء کا ایک بھاری حملہ تھا۔ وہ ان کو جو اس حملہ کی برداشت کر گئے عنقریب ایک تازہ زندگی بخشے گی اور اپنی حالت میں وہ ترقی کر جائیں گے ۔ یہ بشیر در حقیقت ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا اور اس کی موت ان سچے مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہے جن کو اس کے مرنے پر محض اللہ غم ہوا۔ یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ اگر ہماری ساری اولاد مر جاتی اور بشیر جیتا رہتا تو ہمیں کچھ بھی غم نہ تھا۔ پس کیا ایسے لوگوں کا کفارہ نہ ہو گا ؟ کیا ایسوں کے لئے وہ پاک معصوم شفیع نہیں ٹھہرے گا ؟ ضرور ٹھہرے گا۔ اور اس کی موت نے ایسے مومنوں کو زندگی بخشی ہے ۔ غرض وہ مومنوں اور ثابت قدموں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں محض اللہ شریک ہوئے ایک ربانی مبشر تھا۔ اللہ جل شانہ کے انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کے لئے کئی طریقے ہیں ۔ ا تذکرہ صفحہ ۱۱۹ ۔ ایڈیشن چہارم