مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 66

مکتوبات احمد ۶۶ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی حضرت مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بٹالہ میں عنایت نامہ آں مخدوم مجھ کو ملا ۔ اللہ جلشانہ آپ کو سلامت رکھے اور بخیر و عافیت واپس لاوے۔ آپ کی طرف بہت خیال رہتا ہے۔ میاں محمد عمر کے معاملہ میں بہت تر ڈ د دامنگیر ہے۔ خدا تعالیٰ احسن تدبیر سے اس امر مکروہ کو درمیان سے اُٹھاوے۔ بشیر احمد کی طبیعت اب کسی قدر رو بصحت ہے مگر میرا ارادہ یہی ہے کہ اخیر رمضان تک اسی جگہ بٹالہ میں رہوں کہ دوا وغیرہ کے ملنے کی اس جگہ آسانی ہے اور کسی قدر ڈاکٹر کا علاج بھی شروع ہے۔ معلوم نہیں کہ حکیم فضل دین صاحب کب با راده لودہا نہ تشریف لاویں گے ۔ بہر حال اب مناسب ہے کہ بعد رمضان شریف لاویں۔ آپ براہ مہربانی جلد جلد اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں یہ عاجز بمقام بٹالہ نبی بخش ذیلدار کے مکان پر اُتر ا ہوا ہے۔ از بٹالہ ۲۸ رمتی ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر ۴۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اگر چہ آئمکرم کی طبیعت میں عجز و نیاز اور انکسار کامل طور پر ہے اور یہی ضروری شرط عبودیت کی ہے لیکن بحکم آیہ کریمہ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ لا نعماء الہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو علم دین بخشا ہے۔ عقل سلیم عطا کی ہے۔ انشراح صدر جو ایک خاص نعمت ہے ل الضحى : ١٢