مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 58

مکتوبات احمد ۵۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۳۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ بجسنہ میر صاحب کی خدمت میں ارسال کیا گیا۔ پہلے سے میں نے بھی ایسا ہی لکھا تھا جیسا آپ نے تحریر فرمایا ہے مگر میں مکر رلکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ ضرور ایک امینہ وصادقہ عورت بھیج کر سب حال براہ راست دریافت کر لیں کیونکہ یہ ساری عمر کا معاملہ ہے اس میں اگر در پردہ کوئی خرابی نکل آوے تو پھر لا علاج امر ہے ۔ میر عباس علی شاہ صاحب اگر چہ نہایت ۔ مخلص اور صادق آدمی ہیں مگر میر صاحب کی طبیعت میں نہایت سادگی ہے۔ میرے نزدیک از بس مناسب و ضروری ہے کہ شکل وصورت وغیرہ کے بارہ میں قابل اطمینان آپ کو حال معلوم ہو جائے ۔ اس میں ہرگز تساہل نہ کریں کہ یہ معاملہ نازک ہے۔ اگر بیوی مرغوب طبع ہو تو وہ بلا شبہ اسی جہان میں ایک بہشت ہے اور تقویٰ اللہ پر کامل معین ۔ اگر خدانخواستہ مکروہ الشکل نکل آ وے تو وہ اسی جگہ میں ایک دوزخ ہے ۔ مناسب ہے کہ ایک عاقلہ و امینہ عورت اپنی طرف سے روانہ کریں تب ساری کیفیت کھل جاوے گی ۔ اس میں ہر گز ستی نہ کریں۔ نکاح کرنے میں جو غلطی لگ جائے اس جیسی دل کو دکھ دینے والی دنیا میں اور کوئی غلطی نہیں ۔ آئندہ آپ خوب سمجھتے ہیں ۔ اور ہندولڑ کے کے لئے انشاء اللہ اس امر کے فیصلہ کے بعد توجہ کروں گا ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ : اس خط پر کوئی تاریخ درج نہیں ۔ مگر اس کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے یہ خط یا تو اواخر جنوری ۱۸۸۸ ء کا ہے۔ یا اوائل فروری ۱۸۸۸ء کا ہے۔ (عرفانی ) ☆