مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 563
مکتوبات احمد ۵۶۳ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۶۵ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ جس روز آپ کا خط کا خط اور دس روپیہ کا منی آرڈر پہنچا تھا آرڈر پہنچا تھا ۔ اسی روز عا عاجز بباعث ایک عزیز کے سخت بیمار ہونے کے لدھیا نہ آ گیا ہے۔ اس مجبوری سے آپ کی فرمائش کی تعمیل نہ ہوسکی نہایت ندامت ہے۔ آپ کے اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ خداوند کریم نے آپ کے دل میں طہارت باطنی کے لئے خالص جوش بخشا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس جوش میں ترقی بخشے ۔ آمین ۔ والسلام ۳۱ اکتوبر ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۱۶۶ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مشفقی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامه معہ چند اشعار جو بہت عمدہ اور دل سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے تھے پہنچا۔ افسوس کہ میرے تین خطوں سے ایک خط بھی آپ کے پاس نہیں پہنچا۔ نہایت حیرت ہے ۔ جس روز قادیان میں انڈوں کے لئے آپ کا خط پہنچا تھا۔ اسی دن لو دھیانہ سے خط پہنچا کہ والدہ ام بشیر سخت بیمار ہیں ۔ بحجر دیکھنے کے چلے آؤ ۔ لہذا بلا توقف روانہ لودھیا نہ ہونا پڑا ۔ اس وجہ سے انتظام انڈوں یا ان کے حلوہ کا نہ ہو سکا ۔ اب میں ۵ر نومبر ۱۸۸۹ء کو قادیان کی طرف تیار ہوں ۔ آیندہ جو خط آپ لکھیں ۔ قادیان آنا چاہیے۔ پیراں دتا کی نسبت بہت فکر رکھیں ۔ والسلام یکم نومبر ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ