مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 395

مکتوبات احمد ۳۹۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۷۴ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے سخت افسوس ہے جس کو میں بھول نہیں سکتا کہ مجھ کو قبل اس حادثہ وفات کے وقت اس کامل دعا کا موقعہ نہیں ملا جو اکثر کرشمہ قدرت دکھلاتی ہے۔ میں دعا تو کرتا رہا مگر وہ اضطراب جو سینہ میں ایک جلن پیدا کرتا ہے اور دل کو بے چین کرتا ہے وہ اس لئے کامل طور پر پیدا نہ ہوا کہ آپ کے عنایت نامجات میں جو حال میں آئے تھے یہ فقرہ بھی درج ہوتا رہا کہ اب کسی قدر آرام ہے اور آخری خط آپ کا جو نہایت اضطراب سے بھرا ہوا تھا اس تار کے بعد آیا جس میں وفات کی خبر تھی ۔ اس خانہ ویرانی سے جو دوبارہ وقوع میں آگئی رنج اور غم تو بہت ہے۔ اور نہ معلوم آپ پر کیا کیا قلق اور رنج گزرا ہو گا لیکن خدا وند کریم و رحیم کی اس میں کوئی بڑی حکمت ہوگی ۔ یہ بیماری طبیبوں کے نزدیک متعدی بھی ہوتی ہے اور اس گھر میں جو ایسی بیماری ہو سب کو خطرہ ہوتا ہے اور خاوند کے لئے سب سے زیادہ ۔ سوشاید ایک یہ بھی حکمت ہو خدا وند تعالیٰ عزیزی سیٹھ احمد صاحب کی عمر دراز کرے اور اس کے عوض میں بہتر صورت عطا فرمائے ۔ یہ ضروری ہے کہ آپ اس غم کو حد سے زیادہ اپنے دل پر نہ ڈالیں کہ ہر ایک مصیبت کا اجر ہے اور مناسب ہے کہ اب کی دفعہ ایسے خاندان سے رشتہ رشتہ نہ کریں جن میں یہ بیماری ہے اور نیز جو آپ نے اپنے لئے تحریک کی تھی اس تحریک سے بھی سست نہ ہوں ۔ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے ہر ایک کام درست ہو جاتا ہے ۔ باقی سب خیریت ہے۔ کتاب تریاق القلوب چھپ رہی ہے انشاء اللہ القدیر دو تین ہفتہ تک چھپ جائے گی باقی خیریت ہے ۔ والسلام ۱۶ ستمبر ۱۸۹۹ء خاکسار میرزا غلام احمد تشخیذ الا ذہان مارچ ۱۹۰۸ ء صفحہ ۱۱۰، ۱۱۱ ☆