مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 375
مکتوبات احمد ۳۷۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۵۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے لکھا ہے آپ کے صدق واخلاص پر قوی نشانی ہے میں نے جو خط لکھا تھا اس کے لکھنے کے لئے یہ تحریک پیدا ہوئی تھی جو چند ہفتہ ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا ۔ غَشَمَ غَشَمَ غَثَمَ لَهُ دَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دَفْعَةً ہے اس میں تفہیم یہ ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی مطلب کے حصول پر بہت سا حصہ اپنے مال میں سے بطور نذر بھجوائے گا۔ میں نے اس الہام کو اپنی کتاب میں لکھ لیا تھا۔ بلکہ اپنے گھر کے قریب دیوار پر مسجد کی نہایت خوشخط یہ الہام لکھ کر چسپاں کر دیا۔ اس الہام میں نہ کسی مدت کا ذکر ہے کہ کب ہوگا اور نہ کسی انسان کا ذکر ہے کہ کسی شخص کو ایسے کامیابی ہو گی یا ایسی مسرت ظہور میں آئے گی۔ لیکن چونکہ میرا دل آئمکرم کی کامیابی کی طرف لگا ہوا ہے اس لئے طبیعت نے یہی چاہا کہ کسی وقت اس کے مصداق آپ ہی ہوں اور خدا تعالیٰ ایسا کرے۔ کیا اللہ جل شانہ کے نزدیک لاکھ دو لاکھ روپیہ کچھ بڑی بات مجھ بڑی بات ہے ۔ دعاؤں میں اثر ہوتے ہیں مگر صبر سے ان کا ظہور ضرور ہوتا ہے۔ میرے نزدیک نہایت ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جو ہمیشہ اپنے تئیں دعا کے سلسلہ کے نزدیک رکھتا ہے اگر تمام جہان اس قول کے برخلاف ہو جائے تب بھی وہ سب غلطی پر ہیں ۔ دعا سے بڑے بڑے انقلاب پیدا ہو جاتے ہیں ۔ دعا زمین سے لے کر آسمان تک اپنا اثر رکھتی ہے۔ عجیب کرشمے دکھاتی ہے ۔ ہاں پورے طور پر اس زندہ دعا کا ظہور میں آجانا اور ہو جانا ، یہی خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ میں آپ کے شدت اخلاص کی وجہ سے اس میں لگا ہوا ہوں کہ اعلیٰ درجہ کی زندہ دعا آپ کے حق میں ہو جاوے ۔ اور جس طرح شکاری ایک جگہ سے دام اٹھاتا ہے اور دوسری جگہ بچھاتا ہے تاکسی طرح شکار مارنے میں کامیاب ہو جائے ۔ اس طرح میں ہر طرح سے دعا میں روحانی حیلوں کو استعمال میں لاتا ہوں ۔ اگر میں زندہ رہا تو انشاء الله القدير والموفق ، میں اسبات کو اسی قادر کے فضل وکرم اور توفیق سے دکھلاؤں گا کہ زندہ دعا اس کو کہتے ہیں۔ ہمارا خدا بڑی قدرتوں ا تذکرہ صفحہ ۲۶۶ ۔ ایڈیشن چہارم ۔