مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 312
مکتوبات احمد ۳۱۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۹۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم آج سیر میں تذکرہ تھا کہ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی طبیعت پھر علیل ہے اور ان کی غذا کا انتظام درست نہیں ہے چونکہ مجھ کو حضرت مولانا نے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھایا ہے اور اس طرح مجھ کو ان کی شاگردی کا (گو میں بدنام کنندہ نکونامے چند کے طور سے شاگرد ہوں ) فخر حاصل ہے۔ اس لئے میرے دل میں یہ خواہش رہتی ہے کہ حضرت مولانا کی کچھ خدمت کر سکوں ۔ کبھی کبھی میں نے ان کی غذا کا التزام کیا ہے مگر حضرت مولانا کی غیور طبیعت برداشت نہیں کرتی اور وہ روک دیتے ہیں اس لئے الامُرُ فَوْقَ الأَدَبِ کے لحاظ سے پھر جرات نہیں پڑتی ۔ اب اگر حضور حکم فرماویں تو اس طرح مجھ کو خدمت کا ثواب اور حضرت مولانا کے غذا کا انتظام ہو جاتا ہے اور حضرت مولانا حضور کے حکم کی وجہ سے انکار بھی نہ کریں گے ۔ اصل بات یہ ہے کہ لنگر میں بہ سبب کثرت کار پوری طرح سے التزام مشکل ہے میرے باورچی کو چونکہ اتنا کام نہیں اس لئے خدا کے فضل اور حضور کی دعا سے امید کی جاتی ہے کہ التزام ٹھیک رہے گا۔ بس اگر میری یہ عرض قبول ہو جائے تو میرے لئے سعادت دارین کا موجب ہو ۔ دوم میں نے اپنے بھائی کو حضور کے حکم کے بموجب خط لکھا ہے حضور ملاحظہ فرما لیں اگر یہ درست ہو تو بھیج دوں ۔ ۔ - راقم محمد علی خاں حضور نے جواباً تحریر فرمایا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ حضرت مولوی صاحب کی نسبت مجھے کچھ عذر نہیں واقعی لنگر خانہ کے لوگ ، ایک طرف تاکید کی جائے دوسری طرف پھر غافل ہو جاتے ہیں ۔ کثرت آمد مہمانوں کی خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مرتب کی طرف سے ہیں ۔