مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 308
مکتوبات احمد ۳۰۸ مکتوب نمبر ۹۰ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ میں اس جگہ آکر چند روز بیمار رہا۔ آج بھی بائیں آنکھ میں درد ہے ۔ باہر نہیں جا سکتا۔ ارادہ تھا کہ اس شہر کے مختلف فرقوں کو سنانے کے لئے کچھ مضمون لکھوں ۔ ڈرتا ہوں کہ آنکھ کا جوش زیادہ نہ ہو جائے خدا تعالیٰ فضل کرے ۔ مرزا خدا بخش کی نسبت ایک ضروری امر بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ گو ہر شخص اپنی رائے کا تابع ہوتا ہے مگر میں محض آپ کی ہمدردی کی وجہ سے لکھتا ہوں کہ مرزا خدا بخش آپ کا سچا ہمدرد اور قابل قدر ہے۔ اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ کئی لوگ جیسا کہ ان کی عادت ہوتی ہے، اپنی کمینہ اغراض کی وجہ سے یا حسد سے یا محض سفلہ پن کی عادت سے بڑے آدمیوں کے پاس ان کے ماتحتوں کی شکایت کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے سنا ہے کہ ان دنوں میں کسی شخص نے آپ کی خدمت میں مرزا خدا بخش صاحب کی نسبت خلاف واقعہ باتیں کہہ کر آپ کو ان پر ناراض کیا ہے ۔ گویا انہوں نے میرے پاس آپ کی شکایت کی ہے اور آپ کی کسر شان کی غرض سے کچھ الفاظ کہے ہیں ۔ مجھے اس امر سے سخت ناراضگی حاصل ہوئی اور عجیب یہ کہ آپ نے ان پر اعتبار کر لیا ایسے لوگ دراصل بدخواہ ہیں نہ کہ مفید ۔ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ مرزا خدا بخش کے منہ سے ایک لفظ بھی خلاف شان آپ کے نہیں نکلا ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ بے چارہ دل و جان سے آپ کا خیر خواہ ہے اور غائبانہ دعا کرتا ہے اور مجھ سے ہمیشہ آپ کے لئے دعا کی تاکید کرتا رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ چند روزہ زندگی آپ کے ساتھ ہو۔ رہی یہ بات کہ مرزا خدا بخش ایک بیکار ہے۔ یا آج تک اس سے کوئی کام نہیں ہو سکا۔ یہ قضا و قدر کا معاملہ ہے۔ انسان اپنے لئے خود کوشش کرتا ہے اور اگر بہتری مقدر میں نہ ہو تو اپنی کوشش سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ ایسے انسانوں کے لئے جو ایک بڑا حصہ عمر کا خدمت میں کھو چکے ہیں اور پیرانہ سالی تک پہنچ گئے ہیں۔ میرا تو یہی اصول ہے کہ ان کی مسلسل ہمدردیوں کو فراموش نہ کیا جائے ۔ کام کرنے والے مل جاتے ہیں ۔ مگر ایک سچا ہمدرد انسان حکم کیمیا رکھتا ہے ۔ وہ نہیں ملتا۔ ایسے انسانوں کے لئے