مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 294

مکتوبات احمد ۲۹۴ جلد دوم یہ خدائی کام ہیں ۔ مدت ہوئی ایک شخص کے لئے مجھے انہی صفات الہیہ کے متعلق یہ الہام ہوا تھا۔ قادر ہے وہ بار گاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے دن اہل مصائب کو بڑے بڑے اجر ملیں گے تو جن لوگوں نے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں دیکھی وہ کہیں گے کہ کاش ہمارا تمام جسم دنیا میں قینچیوں سے کا ٹا جا تا تا آج ہمیں بھی اجر ملتا ۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مرتب: جیسا کہ دیگر متعدد خطوط سے ظاہر ہے ریاستی حقوق کے بارہ میں ابتلا اواخر ۱۹۰۴ء میں شروع ہوا ۔۱۳ نومبر ۱۹۰۶ ء کو اس بارہ میں حضور کو الہام ہوا ۔ اے سیف ! اپنا رخ اس طرف پھیر لے اور ۱۶ فروری ۱۹۰۸ء کے حضرت نواب صاحب کے مرقومہ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ چند دن قبل اس بارہ میں اُن کو اور ان کے بھائیوں کو کامیابی ہوئی تھی ۔ حضور کے مکتوب ہذا کی اندرونی شہادت واضح ہے کہ اس کی تحریر تک ۱۳ نومبر ۰۶ ء والا الہام نہ ہوا تھا ورنہ دیگر نصائح کے ساتھ حضور تسلی کی خاطر اس امر کا اشارہ ہی ذکر فرما دیتے بلکہ اس الہام کے ہو جانے کے بعد طبعاً حضرت نواب صاحب کا کرب و قلق کم ہو جاتا۔ سو جب ۱۳ نومبر ۱۹۰۶ء کی تاریخ ہی ابھی نہیں آئی تھی تو دو دن بعد (۵) ارنومبر ) کے الہام قادر ہے وہ بارگاہ ۔۔۔۔ الخ‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وو 66 1۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ ۱۵ رنومبر ۱۹۰۶ ء والا الہام یہاں مراد نہیں ۔ اس پر مزیداندرونی شہادات بھی ہیں ایک تو یہ کہ قادر ہے والے الہام کے متعلق حضور تحریر فرماتے ہیں کہ ” مدت قبل کا ہے جو یہاں صادق نہیں آتی ۔ دوسرے اسے ایک معین شخص کے لئے قرار دیتے ہیں جب کہ اس اور دیگر الہامات کے ساتھ مرقوم ہے اصل میں یہ ہر سہ الہام پیشگوئیاں ہیں خواہ ایک شخص کیلئے ہوں اور خواہ تین جدا شخصوں کے حق میں ہوں“ ۔ ( بدر جلد ۲ صفحہ ۴۷ و الحکم جلده اصفحه ۳۹ ) تیسرے ۱۵ نومبر ۱۹۰۶ ء والے الہام کی عبارت یہ ہے :۔