مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 290
مکتوبات احمد ۲۹۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۷۹ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ مجھ کو ملا ۔ جو کچھ آپ نے مجھ کو لکھا ہے اس سے مجھے بکلی اتفاق ہے ۔ میں نے مفتی محمد صادق صاحب کو کہہ دیا ہے کہ آپ کے منشاء کے مطابق جواب لکھ دیں اور آپ ہی کی خدمت میں بھیج دیں ۔ آپ پڑھ کر اور پسند فرما کر روانہ کر دیں۔ ہاں ایک بات میرے نزدیک ضروری ہے گو آپ کی طبیعت اس کو قبول کرے یا نہ کرے اور وہ یہ ہے کہ ہمیشہ دو چار ماہ کے بعد کمشنر صاحب وغیرہ حکام کو آپ کا ملنا ضروری ہے ۔ کیونکہ معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہوا ہے ہے کہ بعض شکی مزاج حکام کو جو اصلی حقیقت سے بے خبر ہیں ہمارے فرقہ پر سوء ظن ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی حکام کو نہیں ملتا اور مخالف ہمیشہ ملتے رہتے ہیں۔ پس جس حالت میں آپ سے جاگیردار ہیں اور حکام کو معلوم ہے کہ آپ اس فرقہ میں شامل ہیں ۔ اس لئے ترک ملاقات نے اندیشہ ہے کہ حکام کے دل میں یہ بات مرکوز نہ ہو جائے کہ یہ فرقہ اس گورنمنٹ سے بغض رکھتا ہے۔ گو یہ غلطی ہو گی اور کسی وقت رفع ہو سکتی ہے ۔ مگر تا تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود ۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ میں انشاء اللہ القدیر بروز جمعرات قادیان سے روانہ ہوں گا ۔ والسلام خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ ☆☆☆