مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 256
مکتوبات احمد ۲۵۶ جلد دوم مکتوب نمبر ۱ ۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس سے پہلے جواب آں محب بھیجا گیا ہے۔ جواب کا منتظر ہوں کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے ۔ مجھے آپ کے لئے ایک خاص توجہ خدا نے پیدا کر دی ہے۔ میں دُعا میں مشغول ہوں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو تمام ترددات سے محفوظ رکھ کر کامیاب فرمادے ۔ آمین ۔ اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب قادیان میں تشریف رکھتے ہیں اور اپنے وطن سے بغیر بندو بست مصارف عیال کے ضرورتاً امرتسر میں آ گئے تھے اور پھر قادیان آئے ۔ ان کی تمام عیالداری کے مصارف محض آپ کے اُس وظیفہ سے چل رہے ہیں جو آپ نے تجویز فرما رکھا ہے۔ اگر چہ ایسے امور کو لکھتے لکھتے جب آپ کی وہ مالی مشکلات یاد آ جاتی ہیں جن کے سخت حملہ نے آپ پر غلبہ کیا ہوا ہے تو گو کیسی ہی ضرورت اور ثواب کا موقعہ ہو پھر بھی قلم یکد فعہ اضطراب میں پڑ جاتی ہے لیکن بایں ہمہ جب میں دیکھتا ہوں کہ میں آپ کے لئے حضرت احدیت میں ایک توجہ کے ساتھ مصروف ہوں اور میں ہرگز امید نہیں رکھتا کہ یہ دعا ئیں خالی جائیں گی تب میں ان چھوٹے چھوٹے امور کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس قسم کے خیال قبولیت دعا کے لئے راہ کو صاف کرنے والے ہیں ۔ یہ تجربہ شدہ نسخہ ہے کہ مشکلات کے وقت حتی الوسع اُن در ماندوں کی مدد کرنا جو مشکلات میں گرفتار ہیں دعاؤں کے قبول ہونے کا ذریعہ ہے ۔ مولوی سید محمد احسن صاحب گذشتہ عمر تو اپنے محنت بازو سے بسر کرتے رہے۔ اب کوئی بھی صورت معاش نہیں ۔ در حقیقت عیالداری بھی ایک مصیبت ہے۔ میں ان تردّدات میں خود صاحب تجربہ ہوں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہر یک مشکل کے وقت جب کہ مہینہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر نئے سرے ایک مہینے کے لئے دوسو روپیہ کے آرد خشکہ اور دوسرے اخراجات کا فکر ہوتا ہے جو معمولی طور پر ایک ہزار روپیہ کے قریب قریب ماہوار ہوتے رہتے ہیں تو کئی دفعہ خیال آتا ہے کہ کیسے آرام میں وہ لوگ ہیں جو اس فکر و غم سے آزاد ہیں ۔ اور پھر استغفار کرتا ہوں اور یقیناً جانتا ہوں کہ جو کچھ مالک حقیقی نے تجویز فرمایا ہے عین صواب ہے ۔ سو در حقیقت خانہ داری کے تفکرات جان کو لیتے ہیں ۔ لہذا مکلف ہوں