مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 210
مکتوبات احمد ۲۱۰ جلد دوم کہ میں اگر غلطی نہیں کرتا تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان دنوں میں دنیوی ہم وغم میں اعتدال سے زیادہ مصروف ہیں اور دوسرا پلہ ترازو کا کچھ خالی سا معلوم ہوتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تحریریں آپ کے دل پر ا کیا اثر کریں یا کچھ بھی اثر نہ کریں ۔ کیونکہ بقول آپ کے وہ اعتقادی امر بھی اب درمیان نہیں جو بظاہر پہلے تھا۔ میں نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت میں سے کوئی بھی ہلاک ہو۔ بلکہ چاہتا ہوں کہ خود خدا تعالیٰ قوت بخشے اور زندہ کرے۔ کاش اگر ملاقات کی ہی سرگرمی آپ کے دل میں باقی رہتی تو کبھی کبھی کی ملاقات سے کچھ فائدہ ہو جاتا۔ مگر اب یہ امید بھی مشکلات میں پڑ گئی کیونکہ اعتقادی محرک باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی لاہور وغیرہ میں کسی انگریز حاکم کا جلسہ ہو جس میں خیالی طور پر داخل ہونا آپ اپنی دنیا کے لئے مفید سمجھتے ہوں تو کوئی دنیا کا کام آپ کو اس شمولیت سے نہیں روکے گا۔ خدا تعالی قوت بخشے۔ بیچارہ نورالدین جو دنیا کو عمو مالات مار کر اس جنگل قادیان میں آبیٹھا ہے، بے شک قابل نمونہ ہے۔ بہتری تحریکیں ہوئیں کہ آپ لاہور میں رہیں اور امرتسر میں رہیں۔ دنیاوی فائدہ طبابت کی رو سے بہت روے ہوگا ۔ مگر کسی کی بات انہوں نے قبول نہیں فرمائی۔ میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ انہوں نے سچی توبہ کر کے دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہے۔ خدا تعالیٰ ان کو شفاء بخشے اور ہماری جماعت کو توفیق عطا کرے کہ ان کے نمونہ پر چلیں کے نمونہ آمین ۔ کیا آپ بالفعل اس قدر کام کر سکتے ہیں کہ ایک ماہ کے لئے اور کاموں کو پس انداز کر کے مرز ا خدا بخش صاحب کو ایک ماہ کے لئے بھیج دیں۔ والسلام حمید ۲۸ را پریل ۱۸۹۵ء خاکسار غلام احمد نوٹ : ۔ آتھم کی پیشگوئی پر حضرت نواب صاحب کو بتلایا تھا اور انہیں کچھ شکوک پیدا ہوئے تھے۔ مگر وہ بھی اخلاص اور نیک نیتی پر مبنی تھے۔ وہ ایک امر جوان کی سمجھ میں نہ آوے ماننا نہیں چاہتے تھے اور اسی لئے انہوں نے حضرت اقدس کو ایسے خطوط لکھے ہیں جن سے یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ گویا کوئی تعلق سلسلہ سے باقی نہ رہے گا۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا اپنی معرفت بخشی اور ایمان میں قوت عطا فرمائی ۔ (عرفانی ) الحکم ۳۱ را گست ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲