مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 207
مکتوبات احمد ۲۰۷ جلد دوم اندر ہی رہنے دیا جائے تو بہت برا اثر پیدا کرتا ہے ۔ غرض حضرت نواب صاحب کے اس سوال سے جو انہوں نے حضرت اقدس سے کیا۔ ان کے مقام اور مرتبہ پر کوئی مضر اثر نہیں پڑتا بلکہ ان کی شان کو بڑھاتا ہے اور واقعات نے بتا دیا کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اپنے ایمان میں بہت بڑے مقام پر تھے ۔ اللَّهُمَّ زِدْفَزِدُ ۔ (عرفانی ) مکتوب نمبر ۱۳ ملفوف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی نواب صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ چونکہ اس عاجز نے پانچ سو روپیہ آں محب کا قرض دینا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ میعاد میں سے کیا باقی رہ گیا ہے اور قرضہ کا ایک نازک اور خطر ناک معاملہ ہوتا ہے۔ میرا حافظہ اچھا نہیں ۔ یاد پڑتا ہے کہ پانچ برس میں ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کتنے برس گزر گئے ہوں گے ۔ عمر کا کچھ اعتبار نہیں ۔ آپ براہ مہربانی اطلاع بخشیں کہ کس قدر میعاد باقی رہ گئی ہے ۔ تا حتی الوسع اس کا فکر رکھ کر توفیق باری تعالیٰ میعاد کے اندر اندر ادا ہو سکے ۔ اور اگر ایک دفعہ نہ ہو سکے تو کئی دفعہ کر کے میعاد کے اندر بھیج دوں ۔ امید کہ جلد اس سے مطلع فرماویں تا میں اس فکر میں لگ جاؤں ۔ کیونکہ قرضہ بھی دنیا کی بلاؤں میں سے ایک سخت بلا ہے اور راحت اسی میں ہے کہ اس سے سبکدوشی ہو جائے ۔ دوسری بات قابل استفسار یہ ہے کہ مکرمی اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب قریباً دو ہفتہ سے قادیان تشریف لائے ہوئے ہیں اور آپ نے جب آپ کا اس عاجز کا تعلق اور حسن ظن تھا۔ بیس روپیہ ماہوار ان کو اسی سلسلہ کی منادی اور واعظ کی غرض سے دینا مقرر کیا تھا ۔ چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ ان کو دیا۔ امید کہ اس کا ثواب بہر حال آپ کو ہوگا ۔ لیکن چند ماہ سے ان کو کچھ نہیں پہنچا۔ اب اگر اس وقت مجھ کو اس بات کے ذکر کرنے سے بھی آپ کے ساتھ دل رکتا ہے مگر چونکہ مولوی صاحب موصوف اس جگہ تشریف رکھتے ہیں ۔ اس لئے آپ جو مناسب سمجھیں میرے جواب کے خط میں اس کی نسبت تحریر کر دیں ۔ حقیقت میں مولوی صاحب نہایت صادق دوست اور عارف حقائق ہیں ۔ وہ